ٹرمپ کی میڈ مین تھیوری کا بڑا شور تھا، محسوس یہ ہو رہا ہے ایران نے اس تھیوری کو آبنائے ہرمز میں غرق کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے بارے میں باقاعدہ ایک تاثر قائم کیا گیا کہ یہ تو کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ یعنی ایسا کوئی کام جو کوئی معقول اور عقل مند آدمی کبھی کرنے کا تصور بھی نہ کرے، ٹرمپ کر لے گا۔ یہ بالکل ایک پاگل پن جیسا تاثر تھا جسے امریکہ کے پالیسی ساازوں نے ایک حکمت عملی کے تحت اجاگر کیا اور دنیا کو ڈرایا گیا کہ اب کی بار آپ کا سامنا ٹرمپ سے ہےاور ٹرمپ کسی بھی پاگل پن تک جا سکتا ہے۔ یہ کسی بھی سربراہ ریاست کو بلا کر بے عزت کر سکتا ہے ، اسے کسی سفارتی آداب کی پرواہ نہیں ، یہ کسی بین الاقوامی قانون کو نہیں مانتا، یہ برسوں کے تعلقات کھڑے کھڑے پامال کر سکتا ہے ، کسی بھی ریاست پر پابندیاں لگا سکتا ہے ، کسی پر بھی تباہ کن جنگ مسلط کر سکتا ہے ،وغیرہ وغیرہ ۔ اس خوف سے پھر ریاستوں کو بلیک میل کیا گیا اور کامیابی سے کیا گیا ۔ اخلاقیات ، تہذیب ، قانون ، قاعدے ، اصول سب سے بے نیاز ہو کر کسی بھی وقت کوئی بھی حرکت کر گزرنے کے امکان کو میڈ مین تھیوری کہا جاتا ہے۔
میڈ مین تھیوری کا خانہ اس وقت خراب ہونا شروع ہوا جب میڈ مین نے ایران سے سینگ پھنسائے ۔ ایران کو دھمکی دی گئی کہ مذاکرات میں ہر وہ چیز مان لو جو ٹرمپ کہہ رہا ہے ورنہ فوجی کاروائی ہو گی۔ ایران نے اس پاگل پن سے ڈرنے سے انکار کر دیا۔ عباس عراقچی نے جواب دیا ، کارروائی کرنی ہے تو شوق سے کر لو ، ہم تیار ہیں ۔
پھر دوسری دھمکی دی گئی کہ اس بار جنگ ہوئی تو بڑی سخت ہو گی۔ جواب ملا : ہم نے بھی 12 روز کی جنگ میں بہت کچھ سیکھا ہے ۔ اس بار ہمارا جواب بھی بڑا سخت ہو گا۔
میڈ مین کی تھیوری نے نیا پینترا بدلا ۔ اپنا جنگی بحری بیڑا ایران کی طرف روانہ کیا اور ایکس پر دھمکی دی کہ ڈیل کر لو ، اب بھی وقت ہے ، میز پر آجاؤ ۔ بات مان لو۔ ایران نے جواب دیا : جو ہمیں ٹیسٹ کرنا چاہتا ہے شوق سے کرے۔ ہم اس کے سارے چاؤ اتار دیں گے۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جنگی مشقیں شروع کر دیں۔ ایران نے ڈرنے کی بجائے جوابی مشقیں شروع کر دیں ۔ یہی نہیں ایران نے آگے بڑھ کر میڈ مین تھیوری کے نام سندیسہ بھیج دیا کہ تم تو تم رہے، خطے میں کسی اور نے بھی تمہارا ساتھ دیا تو اس بار ہم اسے بھی دیکھ لیں گے۔ میڈ مین تھیوری کو پہلا بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب سعودی عرب نے کہہ دیا اس کی زمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔
پھر ایران پر حملہ ہوا اور ایران نے جواب میں پورے خطے میں امریکی اڈوں کو ادھیڑ دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ نیا تجربہ تھا۔ اندازے غلط ہونا شروع ہو گئے تھے۔ میڈ مین تھیوری سمجھ رہی تھی سپریم لیڈر کو مار دیا تو جنگ ختم ہو جائے گی ، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ میڈ مین تھیوری سمجھ رہی تھی ادھر حملہ ہو گا ادھر لوگ نکل آئیں گےا ور رجیم چینج ہو جائے گا، یہ بھی نہ ہو سکا۔ اسے سرنڈر کی توقع تھی لیکن سرنڈر بھی نہ ہو سکا۔ جنگ پورے خطے میں پھیل گئی۔ ایسے شعلے بھڑکے کہ آبنائے ہرمز بند ہو گیا۔
آبنائے ہرمز بند ہوا تو میڈ مین تھیوری نے وہی بلف کھیلا کہ پٹرول کی ترسیل میں رکاوٹ کا فائدہ تو امریکہ کو ہو گا۔ یہ بلف بھی ناکام ہوا۔ اب میڈ مین تھیوری دہائی دے رہی ہے کہ فلاں فلاں ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے میری مدد کرو اور اپنے جنگی جہاز بھیجو۔ وہ آگے سے حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ عالی جاہ آپ نے تو کہا تھا آپ ایران کو شکست دے چکے ہیں ، پھر آپ کو ہماری کیا ضرورت پڑ گئی؟
میڈ مین تھیوری اب جھنجھلا چکی ہے۔ اب نیٹو کو دھمکی دی جا رہی ہماری مدد کو نہ آئے تو تمہارا کوئی مستقبل نہیں ۔ سپین سے اڈے مانگےا س نے انکار کر دیا۔ سوئٹزرلینڈ نے فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا۔ برطانیہ نے جنگ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی ۔ فرانس نے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ۔ جرمنی نے بھی ٹینگا دکھا دیا ہے ۔ عالی جاہ نے فرسٹریشن کے عالم میں چین کو دھمکی دے ڈالی کہ میری مدد کو جہاز بھیجو ورنہ میں شی پنگ سے طے شدہ ملاقات نہیں کروں گا۔ چین نے جواب میں جہاز کی بجائے جنگ بندی کا میٹھا مشورہ بھیج دیا۔
ایران ڈٹ کر کھڑا ہے۔ میڈ مین تھیوری کی ہنڈیا اب بیچ چوراہے میں پھوٹی پڑی ہے۔ ایران پر حملے کی کبھی ایک وجہ بیان کی جاتی ہے کبھی دوسری ۔ برطانیہ کے سابق سیکرٹری خارجہ ولیم ہیگ کہہ رہے ہیں کہ اب تو ایران لازمی طور پر ایٹم بم بنائے گا۔ امریکی صدور روز ویلٹ ، اوبامہ اور جمی کارٹر پر کتابیں لکھنے والا مورخ جوناتھن آلٹر کہہ رہا ہے کہ ٹرمپ جتنی آسانی سے سانس لیتا ہے اتنی ہی آسانی سے جھوٹ بولتا ہے۔ اس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں رہا۔
مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کر کے میڈ مین تھیوری اپنا بھرم گنوا چکی۔ دنیا اس پاگل پن سے بے زار ہوتی نظر آ رہی ہے۔کبھی کینیڈا سے کہا جاتا ہے امریکہ کی ریاست بن جاؤ ، کبھی گرین لینڈ ہتھیانے کا فرمان جاری ہوتا ہے ، کبھی غزہ کے حوالے سے ریئل سٹیٹ فارمولے آ جاتے ہیں ، کبھی ترکی کو دھمکی دی جاتی ہے ، کبھی نیٹو کو آنکھیں دکھائی جاتی ہیں ، کبھی برطانیہ پر لعن طعن شروع ہو جاتی ہے۔
میڈ مین تھیوری آبنائے ہرمز میں غرق ہو چکی ہے۔