امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے اور چلانے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم ایران اب بھی اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے اور اس کی بحری قوت بھی کمزور ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں سے ایران کی ڈرون بنانے کی صلاحیت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔
اس کے باوجود ایران اب بھی اپنے پڑوسی ممالک اور اسرائیل کی طرف میزائل اور ڈرون فائر کر رہا ہے۔ پیر کے روز قطر نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغا گیا ایک اور میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی ممکنہ حملوں کے حوالے سے الرٹ جاری کیے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے آغاز کے مقابلے میں ایران کے حملوں کی تعداد اب کم ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر جنگ کے پہلے دن ایران نے درجنوں میزائل اور سینکڑوں ڈرون داغے تھے، جبکہ اب یہ تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد اور ڈرون حملوں میں 86 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں میزائل موجود ہیں۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائلوں کی تعداد چند ہزار کے قریب ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے میزائل لانچنگ نظام کو مختلف مقامات پر پھیلا دیا ہے اور اب وہ زیادہ تر موبائل لانچرز استعمال کر رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں تلاش کرنا اور نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران ممکنہ طور پر طویل جنگ کی حکمت عملی اپنا رہا ہے، جس میں وہ کم تعداد میں مگر مسلسل حملے کر کے اپنے مخالفین کے دفاعی نظام کو تھکانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے لیے ایک بھی کامیاب ڈرون حملہ مخالف ممالک میں خوف پیدا کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت ایران سست رفتار مگر سستے ڈرون بڑی تعداد میں تیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں جبکہ خلیجی خطے میں توانائی کی پیداوار اور بحری تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔