صدر ازبکستان کا برکس سمٹ میں خطاب-  دنیا کو اتحاد اور ترقی کا پیغام

کازان میں منعقدہ برکس پلس سمٹ کے موقع پر جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے عالمی استحکام اور ترقی کے موضوعات پر خطاب کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی میزبانی میں اس تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سمیت دیگر عالمی رہنما شریک تھے۔

صدر مرزائیوف نے دنیا بھر میں جاری تنازعات اور تفرقے کے بڑھتے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور برکس ممالک کے اصولوں، خصوصاً برابری، غیرجانبداری اور خودمختاری کے احترام پر مبنی تعاون کو عالمی امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل کی اہمیت پر زور دیا اور عالمی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

ازبکستان کی برکس نیو ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ شراکت داری، ڈیجیٹل اکانومی، سبز ترقی، اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں عملی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ صدر مرزائیوف نے توانائی، غذائی تحفظ، اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم چیلنجوں سے نمٹنے میں مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ اور لبنان میں انسانی بحران کو فوری طور پر روکنے اور فریقین کو دو ریاستی حل کی طرف بڑھنے کی دعوت دی۔ افغانستان کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے نہ کہ ان کو الگ تھلگ کیا جائے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر صدر ازبکستان نے برکس ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کو دہرایا اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے لیے شراکت کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں