مصنوعی ذہانت کا فوجی استعمال، امریکی حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنی انتھروپک کے درمیان تنازع کیا ہے؟

امریکا میں مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال کے حوالے سے ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیاہے جس نے نہ صرف واشنگٹن بلکہ پوری دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ امریکی محکمہ دفاع اور مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی معروف کمپنی انتھروپک کے درمیان ایک بڑے معاہدے پر اختلافات سے شروع ہوا، مگر اب یہ سوال عالمی سطح پر زیرِ بحث آ چکا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کس حد تک ہونا چاہیے اور اس کے قواعد کون طے کرے گا۔

امریکی محکمہ دفاع جدید جنگی حکمتِ عملی میں مصنوعی ذہانت کو تیزی سے شامل کرنا چاہتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں فوجی برتری برقرار رکھنے کے لیے جدید سافٹ ویئر اور خودکار نظام ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق، جس طرح اسلحہ بنانے والی کمپنیاں یہ فیصلہ نہیں کرتیں کہ ہتھیار کہاں استعمال ہوں گے، اسی طرح مصنوعی ذہانت بنانے والی نجی کمپنیاں بھی قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں پر پابندیاں عائد نہیں کر سکتیں۔

دوسری جانب انتھروپک کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کو بغیر حفاظتی حدود کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے جن میں شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی یا مکمل خودکار ہتھیار شامل ہوں، جہاں انسانی نگرانی موجود نہ ہو۔ کمپنی کے سربراہ کے مطابق، اگر ان اصولوں کو نظر انداز کیا گیا تو یہ نہ صرف اخلاقی خطرات پیدا کرے گا بلکہ مستقبل میں انسانیت کے لیے سنگین نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مصنوعی ذہانت کو فوجی طاقت کا مرکزی ستون بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کیسے جنگ لڑے گی، اس کا فیصلہ منتخب قیادت کرے گی نہ کہ کوئی نجی کمپنی۔ حکومت کے بعض اعلیٰ عہدیدار اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں تاخیر امریکا کو عالمی مقابلے میں پیچھے دھکیل سکتی ہے۔

ادھر وادی سلیکان کی ٹیکنالوجی صنعت میں اس معاملے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مختلف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سینکڑوں ملازمین نے اپنے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوجی اداروں کی ایسی شرائط قبول نہ کریں جو مصنوعی ذہانت کو غیر محدود جنگی استعمال کی طرف لے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض ایک تکنیکی موضوع نہیں رہی بلکہ عالمی طاقت کے توازن کا اہم عنصر بن چکی ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، یوکرین جنگ میں ڈرونز اور خودکار نظاموں کے بڑھتے استعمال نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ کا مستقبل تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر واضح عالمی قوانین نہ بنائے گئے تو خودکار ہتھیاروں کے جتھے میدانِ جنگ میں انسانی کنٹرول کے بغیر فیصلے کرنے لگیں گے، جس سے تباہی کے خطرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر اختیار ریاستوں کے پاس ہونا چاہیے یا ان کمپنیوں کے پاس جو اسے تخلیق کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، آنے والے برسوں میں یہی فیصلہ طے کرے گا کہ جدید ٹیکنالوجی انسانیت کے تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے یا نئی نوعیت کے خطرات کو جنم دیتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں