صوبوں اور منصوبوں

پنجابی کامحاورہ”مجاں مجاں دیاں پیناں“ہمارے ارباب اقتدارواختیار یعنی حکمران اشرافیہ پرپوری طرح صادق آتا ہے۔سیاستدانوں کے درمیان”ڈھیل“ کی بنیاد پر ”ڈیل“ کا”رستہ“ اور”رشتہ“ بہت پرانا ہے۔نام نہاد ”میثاق جمہوریت“کے تحت پیپلزپارٹی کے قائدین وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے پرتعیش جہازوالے ایشو پراس طرح خاموش ہیں جس طرح کوئی شریک گناہ چپ ہوتا ہے۔ماضی میں بھی یہ ایک دوسرے کو نیب کے شکنجے میں پھنسا یا اورپھر خود بچا یا کرتے تھے، نیب زدگان جب اقتدارمیں آتے ہیں تو ان کے ہاتھوں میں کلین چٹ تھمادی جاتی ہے اوروہ پھر سے کسی خوف کے بغیر قومی وسائل میں نقب لگاتے ہیں۔حکمرانوں کے دورحکومت میں ان کی بریت اوربربریت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ہمارے ملک میں نیب کی ناک کے نیچے کرپشن ہوتی ہے،جہاں آج تک اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار پٹواریوں کو ان کی بدعنوانیوں پر سزا نہ ملی ہووہاں بااثر سیاسی شخصیات کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔جہاں حکمران اورسیاستدان عوا می اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی ڈھٹائی سے کرپشن کا بھرپوردفاع کرتے جبکہ ان شرمناک باتوں پر عوام تالیاں بجاتے ہوں وہاں کوئی انقلاب یا کسی بے رحم احتساب کادور نہیں آئے گا۔میں پھر کہتا ہوں ماضی میں کسی قومی چورکااحتساب ہوا نہ آئندہ ہوگالہٰذاء اگرارباب اقتدار واختیارکی ”کرپشن“ کیخلاف”آپریشن“کرنا نیب نامی سفیدہاتھی کے بس کی بات نہیں لہٰذاء معیشت کواس بھاری بوجھ سے بچانے کیلئے اس کاباب بندکردیاجائے۔قوم کوبتایاجائے نیب کے قیام سے اب تک اس محکمے نے قومی معیشت کو کیا دیا اوروہاں سے کیا لیا،ہوشربااعدادوشمارمنظرعام پرآنے کے بعد عوام زندگی بھر”نیب“ کے”عیب“ فراموش نہیں کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کے قائدین نیب کی گرفت میں آنے پر احتساب کوسیاسی انتقام قراردیتے رہے ہیں۔ نیب کوان کی بڑی بڑی توندوں اور تجوریوں تک بھی رسائی نہیں ملی تھی اورالٹا ماضی میں لاہور کے نیب حکام نے عیدالفطر پر گرفتارملزمان کیلئے”بوفے“کااہتمام کیا تھااورمیڈیا کواس کی پریس ریلیزبھی جاری کی گئی تھی۔آج تک نیب کی عمارت یاجیل خانہ جات سے احتساب عدالت میں آنیوالے کسی ملزم کی”پیشانی“ اور”شیروانی“ پرشکن تک نہیں دیکھی گئی۔عمران خان نے بھی بحیثیت وزیراعظم احتساب کے حق میں بڑی ڈینگیں ماریں تھیں لیکن اس وقت بھی کسی قومی چورسے چوری کاپیسہ برآمد نہیں ہوا تھا۔اگر قومی چوروں کونیب کے ہاتھوں احتساب کاڈر ہوتاتووہ بار بارقومی وسائل میں نقب نہ لگاتے۔پاکستان میں ہرسال پچھلے برس کے مقابلے میں زیادہ کرپشن ہوتی ہے جبکہ چندایک کے سوا ماضی کے سبھی نیب زدگان آج زندانوں کی بجائے ایوانوں میں براجمان ہیں۔یادرکھیں اپنے اختیارات سے تجاوز، منصب کاناجائزاستعمال، قومی وسائل کاضیاع اوربحیثیت حکمران ”من مانی“ کرنا بھی بدترین ”بدعنوانی“ ہے۔جہاں قانون کاڈر نہ ہووہاں جابجا فرعون دندناتے پھرتے ہیں،قانون شکنی کے ”سونامی“ اورحکومت کی”بدنامی“ کوصرف قانون کی حاکمیت کے بندسے روکاجاسکتا ہے۔ نام نہاد اصلاحات کے نتیجہ میں ”زندانوں“ اور”شراب خانوں ”میں کوئی زیادہ فرق نہیں رہا،جیل میں دستیاب ضروریات اور سہولیات دیکھتے ہوئے لگتا ہے قیدی ننھیال میں چھٹیاں منانے آئے ہیں۔یادرکھیں زندانوں اورقیدوبندکی صعوبتوں کاڈرنرم یا ختم کرنے سے مجرمانہ سرگرمیوں کاسیلاب امڈآیاہے۔ شریف شہریوں اورشرپسندوں کیلئے یکساں طورپرتھانوں اورزندانوں کوخوف کی علامت بنایاجائے، یہ قانون کی گرفت،قیدوبند اورسخت سزاکاڈر ہے جس سے کوئی شریف انسان شرپسند مجرم نہیں بنتا۔اگر”ڈر“براہوتا تواپنے بندوں سے سترماؤں سے زیادہ محبت اوران پررحمت کرنیوالے معبود برحق نے قرآن مجید میں بارہا اپنے بندوں کوخودسے ڈرنے کاحکم نہ دیاہوتا۔جس طرح اساتذہ کاڈر ختم جبکہ”مار نہیں پیار“ کانعرہ بلند کرکے طلبہ کو بے ادب اورگستاخ بنادیاگیا اس طرح تھانوں سمیت زندانوں کوخدمت مراکز اورپناہ گاہوں میں تبدیل کرکے شرپسندوں کونڈر بنایاجارہا ہے۔ہمارے انتھک مزدوروں اورہنرمندوں کودن بھر محنت مشقت کے بعدوہ طعام نصیب نہیں ہوتا جواسیران کوملتا ہے۔

پنجاب کی نڈر وزیراعلیٰ نے ایک جدیداورپرتعیش ہوائی جہاز پراپناشوق پرواز پوراکرنے کیلئے مقروض ریاست کی بیمار معیشت سے11 ارب روپے جھونک کر غیرسنجیدہ اوربے پرواہ ہونے کاثبوت دیاہے۔اگرپاکستان کے حکمران پاکستانیوں کی دیرینہ محرومیوں پر”رنجیدہ“ اوران کے مداواکرنے کیلئے”سنجیدہ“ نہیں ہیں توپھران کے پاس مزید اقتدارمیں رہنے کاکوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔جس صوبہ پنجاب میں کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات اورجدیدشہری سہولیات سے محروم ہوں وہاں گیارہ ارب کے جہازکاایڈونچر پسماندہ طبقات اورناخواندہ بچوں کے حقوق پرڈاکے سے تعبیر کیاجائے گا۔اگربدنصیب قوم اورقانون کوجوابدہی کاڈر ہوتا توحکمران اشرافیہ کی نمائندہ خاتون وزیراعلیٰ کوحالیہ شاہ خرچی کاخیال تک نہ آتا۔یادرہے یہ جہازناگزیر ضرورت کے تحت نہیں بلکہ شاہانہ مزاج کی بنیادپرلیاگیا ہے۔ مقروض پاکستان کے وزیراعظم کوبھی بیرونی دوروں پرجا نے کیلئے اس قدرمہنگا ترین جہاز استعمال کرنے کاحق نہیں پہنچتا مریم نواز شریف توپھرایک وزیراعلیٰ ہے۔”اربوں“ کے جہاز”عربوں“ کوسوٹ کرتے ہیں،مقروض پاکستان کا حکمران طبقہ اپنے شوق اپنی جیب سے پورے کرے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا شوق پرواز دیکھنے کے بعد ہمارا مقروض ملک مزید صوبوں کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا۔ پاکستان کے دردمندعوام مزیدصوبوں کے قیام کیلئے شروع کی گئی سیاسی مہم پر ہرگزاپنے اعتماد کی مہرثبت نہ کریں۔پاکستان کو حکمران اشرافیہ کی عشرت کیلئے مزید”صوبوں“ نہیں بلکہ عام آدمی کامعیارزندگی بلند کرنے کیلئے ناگزیر قومی”منصوبوں“ کی ضرورت ہے۔حکمران شاہراہوں کی تعمیرات سے زیادہ شہریوں کی بنیادی ضروریات پرفوکس کریں۔میں پھر کہتا ہوں مزیدصوبوں کے قیام کی صورت میں نئے گورنرز، وزرائے اعلیٰ،صوبائی وزراء،چیف سیکرٹریز،سیکرٹریز،آئی جی حضرات اورسی سی پی اوحضرات کیلئے بیسیوں کینال کے سرکاری محلات،قلعہ نماپرتعیش دفاتر،پرتعیش گاڑیاں،ان کے سرکاری خدمت گار اوران کی مراعات کابھاری بوجھ معتوب ومغلوب عوام کومزید ٹیکسز یاکسی نہ کسی بل کی مد میں برداشت کرنا پڑے گا۔مزید صوبوں کے قیام کی صورت میں ظاہر ہے سیاست میں موروثیت کے تحت آئینی اورعوامی عہدوں سے حکمران اشرافیہ کے بیٹوں،بیٹیوں،بھانجوں اوربھتیجوں کونوازاجائے گا۔اگر پنجاب کی طرح ہرصوبائی منتظم اعلیٰ اپنی سفری سہولت یاشان وشوکت کیلئے گیارہ گیارہ ارب کاجہاز لے آیا تو ہماری نحیف وناتواں قومی معیشت کی عمارت پوری طرح زمین بوس ہوجائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب کی منظرعام پرآنیوالی حالیہ شاہانہ من مانی اٹھارویں ترمیم کے نام پرصوبائی خودمختاری کاشاخسانہ ہے۔اٹھارویں ترمیم کے بعدجابجا منافرت اورصوبائیت کے سومنات تعمیر ہورہے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کامختلف تقریبات سے خطاب کے دوران خیبرپختونخوا کے طلبہ وطالبات پربیجا طنز اوران کی توہین کرناصوبائیت کی آگ بھڑکانے کے مترادف ہے،خاتون وزیراعلیٰ کو نفرت کی سیاست سے روکاجائے۔ پاکستان ماضی میں بھی نفرت کی سیاست کاخمیازہ بھگت چکا ہے لہٰذاء مخصوص آشیربادسے اقتدارمیں آنیوالے اناڑی حکمران پاکستانیوں کے زخموں پرنمک چھڑکنے کی بجائے مرہم یاپھر اپنی زبان بند رکھیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا گیارہ ارب کا جہازٹیک آف کرنے کی بجائے سیاسی طورپر کریش کرگیاہے،پنجاب حکومت کے اس عاقبت نااندیشانہ اقدام پرعوام تنقید کے نشتر برسارہے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کاپسندیدہ جہاز درحقیقت صوبائی معیشت کیلئے سفیدہاتھی ہے جس کے دفاع کیلئے باربار سفیدجھوٹ کاسہارالیاگیا لیکن پنجاب حکومت کوہربار خفت کاسامنا کرناپڑا۔اس اصراف پرمقروض ملک کے محروم طبقات کا غم وغصہ فطری ہے۔ایک طرف قومی ائیرلائن پی آئی اے اپنے متعدد طیاروں اوردوسری قیمتی املاک سمیت محض دس ارب روپے میں نیلام کردی گئی اوردوسری طرف محض فردواحدکی آنیوں جانیوں کیلئے ایک مہنگاترین طیارہ مقروض پاکستان کے گیارہ ارب ڈکارگیا۔اس سے توبہتر تھا پنجاب حکومت نے اپنی مجوزہ پنجاب ائیرلائن کیلئے گیارہ ارب سے پی آئی اے کی بولی لگائی ہوتی تو قومی ائیرلائن کی نیلامی سے ریاست پاکستان کوبدنامی کاسامنا نہ کرنا پڑتا۔راقم نے پچھلے دنوں اپنے ایک کالم میں لکھا تھا جوحکمران جماعت وفاق میں ہوتے ہوئے قومی ائیرلائن پی آئی اے کو”ناکامی“ اور”نیلامی“سے نہیں بچا سکتی وہ پنجاب میں نئی ائیرلائن کس طرح شروع اوراسے کیونکر کامیاب کرسکتی ہے۔گیارہ ارب کاطیارہ فوری طورپرواپس کیاجائے یاپھر وزیراعلیٰ پنجاب اپنے ذاتی وسائل سے اس کی قیمت اداکرے۔ جس طرح عمران خان کی بحیثیت وزیراعظم ہیلی کاپٹر میں ”آنیاں جانیاں“ قابل قبول نہیں تھیں اس طرح خاتون وزیراعلیٰ کے پاس اندرون یابیرون ملک آنے جانے کیلئے گیارہ ارب کے جہاز میں پروازکرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے۔متعددواقعات اورسانحات گواہ ہیں،اناڑ ی اپنی دسترس میں آنیوالے ہر بیش قیمت سامان کا ستیاناس کر تے آئے ہیں اورکرتے رہیں گے۔اناڑیوں کی ناکامی اوربدنامی سے ان کے آقا بھی بدنام ہوتے ہیں۔”اٹاری“ کوتوڑپھوڑسے بچانے کیلئے ہرایک شریک اقتدار”اناڑی“ سے بروقت نجات میں عافیت ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں