انڈین فوج کا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں جاری فوجی آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوج کے مطابق، اتوار کی شام ہونے والی جھڑپ میں کالعدم تنظیم جیش محمد کے ایک مبینہ اعلیٰ کمانڈر سمیت تین عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ یہ آپریشن تقریبا پانچ ہفتے قبل شروع کیا گیا تھا اور تاحال جاری ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ مزید دو عسکریت پسند اب بھی دشوار گزار پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

یہ مشترکہ کارروائی فوج، نیم فوجی دستوں اور جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے جنوری میں شروع کی تھی۔ اس دوران اب تک سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان چھ مرتبہ جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ان مقابلوں میں فوج کا ایک پیرا کمانڈو اور اسپیشل آپریشن گروپ کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

انڈین فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل پراتیک شرما نے کارروائی میں شامل اہلکاروں کو سراہتے ہوئے اس آپریشن کو ’درست اور انتہائی پیشہ ورانہ اقدام‘ قرار دیا۔ فوج کی وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہاکہ ’پولیس، انٹیلی جنس بیورو اور ملٹری انٹیلی جنس سے ملی خفیہ اطلاعات کے بعد کشتواڑ میں آپریشن تراشی ون شروع کیا گیا تاکہ وہاں چھپے عسکریت پسندوں کا سراغ لگا کر انھیں ختم کیا جاسکے۔‘

کشتواڑ کے چھاترو قصبے کے پہاڑی علاقوں سنگھ پورہ، جانیسر، دولگام اور پسیر کوٹ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران دو درجن کے قریب جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں فوج کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ رواں برس جنوری میں انہی علاقوں میں مشترکہ آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب آسام میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں نیم فوجی ادارے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی شاندار کارکردگی کے باعث مکمل امن بحال ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا، ’آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد گزشتہ سات برسوں کے دوران پتھراؤ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور فورسز کو ایک بھی گولی چلانا نہیں پڑی ہے۔‘

امت شاہ نے مزید کہا کہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاستیں اور وسطی انڈیا میں نکسل عسکریت پسندی داخلی سکیورٹی کے حوالے سے تین ’ہاٹ سپارٹس‘ تھے، تاہم ان کے مطابق ان تینوں علاقوں میں فورسز نے امن قائم کر دیا ہے اور مارچ تک نکسل عسکریت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں