افغانستان میں امریکی اخراجات اور بدعنوانی کی نگرانی کرنے والا ادارہ اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) رواں مہینے کے آخر تک بند کر دیا جائے گا۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق یہ ادارہ 2008 میں امریکی کانگریس نے قائم کیا تھا، جس نے افغانستان میں تعمیرِ نو پر خرچ ہونے والے تقریباً 148 ارب ڈالر کی جانچ کی۔ SIGAR نے اپنی رپورٹس میں بدعنوانی، مالی ضیاع، جعلی فوجیوں کی تنخواہوں، نامکمل منصوبوں اور امریکی و افغان حکام میں بدعنوانی جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی تھی۔
ادارے کی دسمبر 2025 کی آخری رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ نے افغانستان میں جمہوری نظام قائم کرنے پر اتنا پیسہ خرچ کیا جتنا دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کی تعمیرِ نو پر بھی نہیں ہوا تھا۔
افغانستان میں امریکی منصوبے کو تاریخ کے مہنگے اور ناکام تجربات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگست 2021 میں امریکی انخلا کے چند ہی ہفتوں بعد افغان حکومت ختم ہو گئی اور طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھال لیا۔
انخلا کے وقت تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا فوجی سامان افغانستان میں رہ گیا جو طالبان کے قبضے میں چلا گیا، جبکہ 24 ارب ڈالر کی سول اور فوجی تنصیبات بھی ضائع ہو گئیں۔
اطلاعات کے مطابق سگار کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی ہے اور اس کا ریکارڈ اب یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس کے ڈیجیٹل آرکائیو میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔