حکومت نے خاندانی نظام پر ایک کاری ضرب لگائی ہے۔ اب گھر کے اندر کوئی فرد دوسرے کوگھور کر نہیں دیکھ سکے گا، نفسیاتی دباؤ ڈال کر پریشان کرنا بھی قانون کے مطابق جرم ہوگا۔ گھر میں شادی ہو کر آنے والی لڑکی کو اُس کی مرضی کے خلاف گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ رکھنے پر بھی قانون حرکت میں آئے گا۔بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا بھی جرم قرار پائے گا۔”معاشی تشدد” بھی جرم ہوگا۔مندرجہ بالا تمام جرائم کی سزا چھ ماہ سے تین سال تک قید ہو سکتی ہے اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس قانون کی منظوری دے دی گئی ہے،جسے "ڈومیسٹک وائلینس بل” کا نام دیا گیا ہے۔
اگر کسی گھر میں کوئی لڑکی بیاہی آتی ہے، اور وہ مطالبہ کرتی ہے کہ اُس نے دیگر افراد کے ساتھ نہیں رہنا، اُسے الگ کیا جائے تو اُس کا شوہر اُس کا مطالبہ ماننے کا پابند ہوگا۔ اگر یہ مطالبہ ماننے سے انکار کرے گا تو اُسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا نتیجہ اوپر بیان کر دیا گیا ہے۔ فرض کریں اُس گھر میں لڑکے کے شوہر کے علاوہ اُس کے چھوٹے بہن بھائی اور والدین ہیں تو وہ لڑکا کیا کرے گا۔ اپنے بزرگوں اور چھوٹے بہن بھائیوں کو کس کے رحم و کرم پر چھوڑے گا؟ فرض کیا لڑکا اکلوتا ہے، صرف والدین اس کے ساتھ رہتے ہیں، تو لڑکی کے مطالبہ پر وہ والدین کو کس کے حوالے کرے گا؟ یا فرض کیا کوئی لڑکا غریب ہے، یا اُس کی مالی حالت ایسی نہیں کہ وہ اپنی بیوی کے لئے الگ بندوبست کر سکے تو کیا ہوگا؟ قانون چونکہ اندھا ہوتا ہے، اس لئے وہ زمینی حقائق کو نہیں دیکھ سکتا، وہ سب کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔
بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا جرم ہے۔ حیرت ہے طلاق دینا اسلامی قانون میں ایک جائز عمل ہے، اگرچہ اسے ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ یعنی طلاق تو ہو سکتی ہے مگر طلاق کی دھمکی نہیں۔ رہا دوسری شادی کا معاملہ یہ اگرچہ پاکستان کے قانون میں پہلی بیوی کی اجازت سے مشروط ہے، جس کا کہ اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ مگر بہت سے گھروں میں جب میاں بیوی مذاق کے موڈ میں ہوتے ہیں، تو دوسری شادی کا ذکر چل نکلتا ہے، دھمکی نما خواہش کا اظہار بھی لوگ کر دیتے ہیں، یہ عمل ایک پیار بھری شرارت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو طلاق کی دھمکی دیتا ہے، اور بیوی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو کیا ہوگا؟ یہ سانحہ بھی ہو سکتا ہے، کہ عورت عدات کے دروازے پر دستک دینے گئی ہو اور دوسری طرف اس کاشوہر اس کے لئے طلاق کا پروانہ تیار کر کے ارسال کر دے۔ پھر کیا عدالت طلاق دینے پر بھی کوئی قانونی قدم اٹھا سکے گی؟ کیا طلاق دینے کی صورت میں بھی مرد کو قید یا جرمانہ کی سزائیں ہو سکیں گی؟
ایک گھر میں رہنے والے افراد کا آپس میں اختلاف رائے ہو جاتا ہے، یہ ایک فطری عمل ہے، ہزاروں میں سے کوئی گھر ہوگا جہاں حالات مکمل پُر سکون رہتے ہیں۔ کبھی کوئی گرمی سردی نہیں ہوئی۔ ہاں تشدد کی ہر فرد نفی کرتا ہے، یہ نہایت غیر مہذب اور کسی حد تک جاہلانہ عمل ہے۔ مگر تھوڑی سی تلخی کو بھی قانون کے حوالے کر دینا ا ز خودقانون سازوں کی ایک نفسیاتی کمزوری محسوس ہوتا ہے۔ گھور کر دیکھنا بھی جرم ہے۔یعنی آپ اپنے بچے کو "شِیت” بھی کہیں گے تو وہ آپ کو عدالت تک لے جانے کی پوزیشن میں ہوگا۔ اس سے پورے گھر میں سخت کشیدگی کا ماحول پیدا ہو جائے گا اور پورے گھر کا نظام تلپٹ ہو کر رہ جائے گا۔
ایک دوسرے کو قانون کی دھمکیاں دینے سے رِشتوں کا تقدس اپنی موت آپ مر جائے گا۔ دم توڑتی روایات ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ والدین بے وقعت ہو جائیں گے، کیونکہ گھر کا بیٹا اپنی بیوی کے ہاتھوں مجبور ہو گا اور والدین بیٹے کے ہاتھوں بے بس ہوں گے۔ اگر ماضی میں بزرگوں کا جبر تھا تو اب بزرگوں کو صبر پر مجبور کر دیا جائے گا۔ معاملہ صرف روایات کا ہی نہیں، ہمارا مذہب بھی ہمیں رشتوں کے تقدس کا درس دیتا ہے۔ والدین کی خدمت کا حکم قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی واحدانیت کے بعد بھی کیا ہے، ہر حال میں والدین کے سامنے جھک کر رہنے اور اُف تک نہ کہنے کا حکم ہے۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قانون والدین کی خدمت کا دروازہ ہی بند کر رہا ہے۔ جبکہ پاکستان کے آئین میں یہی لکھا ہے کہ کوئی قانون اسلامی قوانین سے متصادم نہیں بنایا جائے گا۔ یہاں کھلم کھلا تضاد پایا جاتا ہے۔
یہ معاملہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ گھر کا کوئی متاثرہ فرد جب عدالت جائے گا تو وہ عدالت میں اپنے حق میں کیا ثبوت پیش کرے گا کہ مجھے گھر کے فلاں فرد نے گھور کر دیکھا ہے؟ یا عورت کیا ثبوت فراہم کرے گی کہ مجھے میرے شوہر نے طلاق یا دوسری شادی کرنے کی دھمکی دی ہے؟ یا یہ کیسے کہا جائے گا کہ مجھے میری ضرورت کے پیسے نہیں دیئے گئے یوں مجھے معاشی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کیا ایک مزدور اپنے گھر کے تمام افراد کے تمام معاشی مطالبات پورے کر سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد بیوی اور بچوں کے مطالبات پورے نہ کر سکنے کی وجہ سے ، اُن کی ضروریات پوری نہ کر نے کی وجہ سے خود کشی تک کر جاتے ہیں۔ ایسے میں جب خاتون یا دیگر افراد گھر کے کسی غریب کفیل پر دباؤ ڈالیں گے تو وہ کیا کرے گا۔ جیل جائے گا یا خود کشی کو ترجیح دے گا؟
دراصل ہمارے نمائندے مغرب زدہ ہیں۔ بیرونِ ملک جا کر یہ بہت سی نئی چیزیں دیکھتے ہیں، پاکستان واپس آکر اِن کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا ملک بھی ویسا ہی ہو جائے۔ نہ تو ان کو وہاں کے حکمرانوں کی سادگی دکھائی دیتی ہے، یہ قرض لینے والے وہاں کے حکمرانوں سے کہیں زیادہ مراعات لیتے اور عیاشیاں کرتے ہیں، نہ وہاں کا نظامِ تعلیم نظر آتا ہے کہ یہاں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، نہ وہاں کی طبی سہولتوں پر ان کی نظر جاتی ہے، نہ وہاں کی تعمیر و ترقی اور صفائی دکھائی دیتی ہے، نہ وہاں کے قوانین پر پابندی کے مناظر انہیں متاثر کرتے ہیں۔ اگر یہ وہاں سے کچھ حاصل بھی کرتے ہیں تو عریانی، فحاشی یا خاندانی نظام کے خاتمے کی مثالیں۔ وہاں ماں بھی آزاد ہے، باپ بھی آزاد ۔ حتیٰ کہ اولاد بھی آزاد ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بے بس بوڑھے والدین اولڈ ہومز کی رونق بڑھاتے اور بے بسی میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزارتے ہیں۔ ہمارے انگریزوں کے غلام نما حکمران بھی قوم کو انہی ذلتوں بھرے گڑھوں میں گرانا چاہتے ہیں۔ پھر قانون کی چال دیکھئے، چھ دن میں سماعت اور نوے دن میں فیصلہ! کیا دیگر مسائل کے لئے بھی قانون کی یہی برق رفتاری دیکھنے میں آئے گی؟