جاپان کی وزیراعظم سانے تاکائچی نے جمعے کے روز پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کو تحلیل کر دیا ہے جس کے بعد 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات ہوں گے۔
اس فیصلےکے باعث پارلیمنٹ میں بجٹ کی منظوری مؤخر ہو جائے گی، جو مہنگائی میں اضافے اور کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اکتوبر 2025 میں جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہونے والی سانے تاکائچی کو عہدہ سنبھالے ابھی صرف تین ماہ ہوئے ہیں مگر ان کی مقبولیت تقریبا 70 فیصد بتائی جا رہی ہے۔ وہ حکمراں جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) کی قیادت کر رہی ہیں جو حالیہ برسوں میں کرپشن اسکینڈلز اور متنازع مذہبی تنظیم سے تعلقات کے الزامات کے باعث دباؤ کا شکار رہی ہے۔
پارلیمنٹ کے 465 رکنی ایوان زیریں کی تحلیل کے بعد 12 روزہ انتخابی مہم شروع ہوگی۔
وزیراعظم تاکائچی کا کہنا ہے کہ وہ عوام سے واضح مینڈیٹ چاہتی ہیں تاکہ اپنی معاشی، دفاعی اور امیگریشن پالیسیوں پر عمل کر سکیں۔ ان کے مطابق، مہنگائی پر قابو پانا، کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینا اور جاپان کو مضبوط اور خوشحال بنانا ان کی ترجیحات ہیں۔
خارجہ محاذ پر بھی جاپان کو چیلنجز درپیش ہیں۔ چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اس وقت جب تاکائچی نے تائیوان سے متعلق بیانات دیے۔ دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جاپان پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ انتخابات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا وزیراعظم سانے تاکائچی اپنی مقبولیت کو پارلیمانی اکثریت میں بدلنے میں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں، جبکہ جاپان کو درپیش معاشی اور سکیورٹی چیلنجز بدستور اہم مسئلہ بنے رہیں گے