دورجاہلیت میں محض زراورزور کے بل پرفیصلے ہواکرتے تھے تاہم ظہورِاِسلامیت اورسراپارحمت سرورکونین حضرت سیّدنامحمدرسول اللہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کے دنیا میں آنے سے اِنسانیت کی کایا پلٹ گئی۔معبودبرحق اللہ ربّ العزت نے دین فطرت اسلام کے نصاب میں انسانوں کے حقوق اوران کی حدودکاتعین کردیا۔اسلامیت سے قبل انسانیت اوراخلاقیات کاکوئی تصور نہیں تھالہٰذاء اسلام کے بغیر انسانیت کاکوئی مستقبل نہیں ہے۔اسلام کے پاس محض کامیابی کا پیغام نہیں بلکہ جامعہ پروگرام بھی ہے۔دنیا جہاں کے”مشرک“ آج بھی”مشرق“ سے ڈرتے ہیں، دنیا میں پائیدارامن اورتوازن کیلئے پاکستان اپناکلیدی کرداراداکرے گا سو پاکستان میں ”انتقامی سیاست“ کاسیاہ باب بندکرنے سے”انتظامی صلاحیت“کے بحران پرقابوپایاجاسکتا ہے۔یادرکھیں ”انا“کے اسیر”فنا“ جبکہ سنجیدہ ”مکالمے“ سے پیچیدہ”معاملے“ میں حل ہوجاتے ہیں۔ان شاء اللہ مستقبل میں پاکستان سے بڑا کام لیاجائے گالہٰذاء ہماری ریاست اپنی توانائیوں کے ضیاع کی متحمل نہیں ہوسکتی،قومی منصوبوں کیلئے قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے انسانوں کیلئے امن وامان،روزی روزگار،آزادی،خودمختاری،خودداری،استحکام،اوصاف،انصاف اورمساوات کی ضرورت اوراہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اس کیلئے دنیا کی ہرریاست اوربالخصوص مقتدر ملکوں میں ”مقبول“نہیں ”معقول“ حکمرانوں کی ضرورت ہے۔وہ حکمران جو”عیب“اور”نیب“کے داغ سے پاک ہوں۔
وہ حکمران جو ”ہوس“ کے”قفس“ میں قیدنہ ہوں۔وہ حکمران جوخودآزادرہنا اوردوسروں کوبھی آزاد دیکھناپسندکریں، ایسا حکمران جس کے طرزِ حکومت سے عہدفرعونیت کی تلخیوں سے بھری یادیں اورزخم تازہ نہ ہوں۔عہدحاضر میں امریکہ سمیت جو ملک اپنی طاقت کے”زعم“ میں دوسروں کو”زخم“ لگانے اور یرغمال بنانے کے درپے ہیں وہ ہرگز آزاداوربیدارنہیں ہوسکتے۔دنیا میں ”مادی“ دوڑ اور”مودی“ دور کے سبب وسعت قلبی،بردباری اوروضع داری کاجنازہ اٹھ گیا ہے۔ زمین پرجابجا جہنم کے مناظرمدبر قیادت کے قحط کاشاخسانہ ہیں۔نحوست زدہ جمہوریت کی کوکھ سے شعبدہ بازوں اورشوبازوں کاجنم ہوا،نظام جمہوریت محض سیاسی بونوں اور مصنوعی کرداروں کی ایوان اقتدار تک رسائی کاراستہ ہموار کرتاہے۔ڈونلڈٹرمپ کی کیمسٹری ہمارے ایک حکمران سے کافی ملتی ہے کیونکہ دونوں انتہائی شعبدہ بازاورزبان دراز ہیں۔ڈونلڈٹرمپ کے چہرے سے امن کانقاب اترنے کے باوجوداسے نوبل انعام کیلئے نامزدکرنیوالے کرداروں نے ہنوز اظہارندامت اوراظہارمعذرت تک نہیں کیا۔
امریکہ سمیت نام نہادمہذب ملکوں کے منتخب حکمران بھی ووٹوں اورنوٹوں کیلئے انسانیت کوروندرہے ہیں۔کون کہتا ہے یورپ یا امریکہ میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا،امریکہ توبحیثیت ریاست سراپاجھوٹ ہے۔امریکہ نے بارہا اپنے ”جھوٹ“ کے زورپردوسرے ملکوں کوگہری ”چوٹ“ لگائی ہے۔ امریکہ میں منصب صدارت کی ابتداء جارج واشنگٹن سے ہوئی تھی،وہ 1789ء سے 1797ء تک صدر رہا۔اس کے بعد کئی صدورآئے اورتاریخ کاحصہ بنے،بہرکیف جارج بش، بل کلنٹن،براک اوباما، جارج ڈبلیو بش اورجوبائیڈن سے ڈونلڈٹرمپ تک امریکہ کے صدور کی عراق، لیبیاء،افغانستان یاوینزویلا کیخلاف نام نہاد چارج شیٹ مختلف ہوسکتی ہے لیکن ان کے طریقہ واردات اوراہداف میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔دنیا کی نام نہاد سپرپاورنے مختلف ادوارمیں اپنی متنازعہ جیت کیلئے ہربار اپنے مدمقابل ملکوں میں غداروں کوتیارکیا اوران کاسہارالیا ہے۔ایران میں مٹھی بھر غداروں کی مدد سے جاری پرتشددمظاہروں کے ڈانڈے بھی امریکہ سے جاملتے ہیں۔ایران کے جومٹھی بھرگمراہ لوگ امریکہ کواپنانجات دہندہ سمجھ رہے ہیں وہ عراق،لیبیاء،شام اورلبنان کاانجام یادرکھیں،ان برادراسلامی ملکوں میں قیادت کی تبدیلی کے نام پرآنیوالی بدحالی سے کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں رہا۔ جوامریکہ برانڈ جمہوریت آپ کوعزت نفس اورآزادی سے محروم کردے اس سے بادشاہت یاشخصی آمریت ہزاردرجے بہتر ہے۔اپنے ہم مذہب اورہم وطن حکمرانوں سے آزادی کیلئے واشنگٹن کی ڈکٹیشن یا غلامی قبول کرنا ہرگزدانائی نہیں۔
کون نہیں جانتا امریکہ کاہر حکمران اسرائیل کاپشت بان ہوتا ہے لہٰذاء ان سے ایران کے مخصوص طبقہ کیلئے کسی ہمدردی یادوستی کی امید رکھنا حماقت بلکہ جہالت کے سوا کچھ نہیں۔برادراسلامی ریاست ایران میں امن واستحکام اورمنتخب حکومت کے دوام کیلئے پاکستان ایک ہمسایہ کی حیثیت سے جوکرسکتاہے وہ ضرورکرے۔ایران کے اندر پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی صورت میں بیرونی مداخلت اورممکنہ جارحیت کاخطرہ ہوتے ہوئے خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔میں پھرکہتاہوں ”اقوام متحدہ“درحقیقت ”اقوام مردہ“ ہے لہٰذاء ایک مردہ اورناکام ادارہ بے لگام امریکہ کامحاسبہ یامحاصرہ نہیں کرسکتا۔ امریکہ نے بظاہر وینزویلا کے اقتدار اورقومی وسائل پرقبضہ جمالیا ہے، ایک طرف واشنگٹن میں جیت کے شادیانے بجائے جارہے ہیں لیکن دوسری طرف دنیا بھر میں امریکہ شدیدنفرت کامرکز ومحور بن گیا ہے۔ ڈونلڈٹرمپ نے وینزویلا کے پٹرول سے امریکہ کی بچی کچھی”ساکھ“ کو بھی ”راکھ“ کاڈھیربنانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔کوئی حساس انسان محبت کے بغیرتو زندہ رہ سکتا ہے لیکن کسی کی نفرت کے ساتھ زیادہ دیر نہیں جی سکتا۔دنیا کی شدید”نفرت“ کے مقابلے میں امریکہ کی نام نہاد”نصرت“ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔امریکہ کازورصرف ناتوا ں ملکوں پر نکلتا ہے،وہ کسی ایٹمی ریاست کیخلاف راست اقدام نہیں کرسکتا۔
امریکہ سمیت مقتدرملکوں کے حکمران یادرکھیں حکومت کرنے کیلئے ہماری دنیا سے باہردوسری کوئی دنیا نہیں ہے لہٰذاء وہ اس عارضی دنیا میں قبل ازوقت بلکہ قبل ازقیامت ہولناک قیامت برپانہ کریں۔ امریکہ سمیت مقتدرملکوں کے حکمران اپنے اپنے وسائل پرانحصار اورایک دوسرے کی مدد سے انفرادی اوراجتماعی مسائل کاپائیدارحل تلاش کریں۔برقی روسے گاڑیاں چلناشروع ہوگئی ہیں لہٰذاء مستقبل میں پٹرول کے استعمال میں خاطرخواہ کمی آئے گی سوپٹرول کیلئے دوسرے ملکوں میں مداخلت اور جارحیت کاکوئی جواز نہیں،یادرکھیں جنگل کے جانوربھی صرف بھوک مٹانے کیلئے شکارکرتے ہیں۔امریکہ اپنے ہاں پٹرول ہوتے ہوئے”ہتھیاروں“ سے دوسرے ملکوں کا پٹرول”ہتھیانے“سے گریزکرے۔ آزادملکوں کی خودمختاری اورخودداری کو”روندنا“ اوران کے وسائل ہڑپ کرنے کیلئے ”روندی“ مارناکہاں کی انسانیت اوراخلاقیات ہے۔اگرامریکہ مہذب اورجمہوری ملک ہوتا تووینزویلا میں کشت وخون کرتے ہوئے بندوق اوربارود کے زور پروہاں سے ایک منتخب اورمحبوب صدرنکولس مادوروکواغواء اوراپنے پاس قید نہ کرتا۔گھمنڈی امریکہ کاراستہ ناکامی اور بدنامی سے آراستہ ہے۔ امریکہ کودنیا کامنصف یاتھانیدار کس نے بنایا،وہ دوسرے ملکوں کی قسمت کے فیصلے نہیں کرسکتا۔امریکہ نے وینزویلا کے وسائل پرقبضہ جمانے کیلئے دنیا کو مسائل کی آگ میں جھونک دیا ہے۔واشنگٹن بزورطاقت دنیا کی کسی مہذب،خودمختار اورآزادریاست کوڈکٹیشن نہیں دے سکتا۔وینزویلامیں ہونیوالی حالیہ گھس بیٹھ اورجارحیت کاکوئی جواز نہیں تھا۔وینزویلا کے گرفتار صدر نکولس مادوروکوفوری رہا اورانہیں ان کا اقتدارواپس کیاجائے۔ اگر امریکہ کوعراق،لیبیاء اورافغانستان میں کشت وخون سے روکاگیا ہوتا توآج وینزویلا میں صف ماتم نہ بچھی ہوتی۔ امریکہ کی آمرانہ اور جارحانہ سوچ اسے دنیا میں مزیدرسوا اور تنہا کردے گی۔
راقم کے نزدیک جمہوریت انسانوں کابنایا ناکام ترین نظام ہے،اس میں ”بردباروں“ کو پیچھے کردیا جاتا ہے جبکہ ”بزداروں“ کومنصب ملتے ہیں۔جمہوری طرز حکومت میں انتہاپسنداورخودپسندبھی منتخب ہوجاتے ہیں اسلئے میں اس ناکام وبدنام نظام جمہوریت سے بیزاراورپاکستان سمیت اسلامی ملکوں میں نظام خلافت کاحامی ہوں۔ انتہاپسنداورخودپسندمردوزن حکمرانوں کاوجودوہاں کی معاشرت اورمعیشت کیلئے زہرقاتل ہے۔دنیا بھر کے عوام اعتدال اوراستقلال کی حامل قیادت کومینڈیٹ دیتے ہوئے موروثیت کومستردکردیں۔سنجیدہ،سلجھے اوربردبار سیاستدان جودوسرے ملکوں کے قومی وسائل کومیلی آنکھ سے نہ دیکھیں،جو آزاد ملکوں پرجھپٹ کران کے وسائل ہڑپ نہ کریں۔پنجاب اورپاکستان سمیت دنیا کو اپنے اقتدار کے ایوانوں میں ”ماڈل“ نہیں بلکہ”رول ماڈل“ کی ضرورت ہے جوقومی وسائل اپنی”تشہیر“ کی بجائے”تعمیر“ پرصرف کریں۔جو مادی اورمالی مفادات کیلئے انسانیت اوراخلاقیات کونہ روندیں۔نریندرمودی اور ڈونلڈٹرمپ دونوں ”مقبول“ ہیں لیکن اپنے معاشروں کیلئے ”معقول“ نہیں۔انتہاپسندنریندرمودی نے بھارت جبکہ شدت پسند ڈونلڈٹرمپ نے امریکہ کوپوری طرح ننگا اورگندا کر دیاہے۔راقم نے اپنے ایک کالم میں ڈونلڈٹرمپ کوامریکہ کانریندرمودی جبکہ نریندرمودی کوبھارت کاڈونلڈ ٹرمپ قراردیا تھا،ان دونوں کے رنگ اورنام مختلف ہیں لیکن کام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مودی مائنڈسیٹ نے جنوبی ایشیاء جبکہ ڈونلڈمائنڈسیٹ نے دنیا بھرمیں عدم استحکام پیداکردیا ہے۔امریکہ کی وینزویلا میں حالیہ بدترین مداخلت اورجارحیت کے بعدیقینا دنیا کاکوئی آزاد اورخودمختارملک اپنے آپ کومحفوظ نہیں سمجھتاہوگا۔ڈونلڈٹرمپ نے 20جنوری 2025ء کواپنے منصب صدارت کاحلف اٹھایا تھا،اب اس کے پا س مزیدتین سال باقی ہیں اوراس کے بعدموصوف کی سیاست ماضی کاقصہ بن جائے گی۔وہ اپنے پیشروصدور سے ہزارگنا زیادہ رفتار کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے نفرت سمیٹ رہا ہے۔جوشخص چندماہ قبل اپنے اثرورسوخ سے ایران اورسرائیل کے درمیان تصادم ختم کر نے کاکریڈٹ لے رہا تھا اس نے وینزویلا کیخلاف مہم جوئی کرتے ہوئے دنیا کوکافی حدتک ممکنہ تھرڈورلڈوار کے دہانے پرپہنچا دیا ہے۔پاکستان، چائینہ،روس اورترکیہ کی طرف سے امریکہ کی مذمت کافی نہیں،مرمت کاانتظام کرناہوگا