اسلام آباد جنگل اور سی ڈی اے: حقائق کیا ہیں؟

اسلام آباد میں جنگلات کے سفاکانہ کٹاؤ پر ہونے والی تنقید اب تنقید برائے اصلاح سے بڑھ کر تنقید برائے تنقید بلکہ تنقید برائے ضد اور تنقید برائے فیشن بنتی جا رہی ہے. سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جیسے جنگلات کا اندھا دھند کٹاؤ ایک عذاب ہے ، اسی طرح اس پر بغیر سوچے سمجھے ضد ، انا اور فیشن میں کی جانے والی اندھا دھند تنقید بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ جو لوگ معاملے کو سمجھتے ہیں وہ ان دونوں انتہا پسندانہ رویوں سے پناہ مانگتے ہیں ۔

سی ڈی اے کا موقف یہ ہے کہ وہ جنگلی توت کے درختوں کو کاٹ رہے ہیں ۔ یہ موقف درست نہیں ہے۔ شکر پڑیاں میں صرف جنگلی توت نہیں کٹے ، بہت سارے دیگر درخت بھی ملیا میٹ ہو گئے ہیں۔ آریاں دے کر ٹھیکیداروں کو جنگل میں گھسا دیا گیا ہےا ور انہوں نے تباہی پھیلا دی ہے۔ ظاہر ہے یہ بے سبب نہیں ۔ یہ سی ڈی اے کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔

ملی بھگت نہ ہوتی تو سی ڈی اے ایک سروے کرواتا ۔ جنگلی توت کے درختوں کی نشاندہی ہوتی ۔ ان پر کوئی نشان لگایا جاتا اور پھر ٹھیکیدار سے کہا جاتا ہے کہ نشان زدہ درختوں کو کاٹ دیا جائے۔
لیکن یہاں مشکوک طریقے سے درختوں کی تباہی کی گئی ہے اور صفایا کر دیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر تو وہاں تعمیرات شروع ہو چکی ہیں۔ گویا مقصود توت کاٹنا نہیں ، مقصد یہ تعمیرات تھیں۔ چنانچہ توت کے ساتھ بھی بہت کچھ کاٹ دیا گیا۔

شکر پڑیاں کا جنگل نیشنل پارک کا حصہ ہےا ور یہاں کسی قسم کی تعمیرات نہیں ہو سکتیں ۔ لیکن یہاں ہوٹل کھلے ہیں ، اندر ایک ہاوسنگ کالونی بھی بن چکی ہے۔ اشرافیہ کے کلبوں کو ناجائزز طور پر زمین الاٹ ہو چکی ہے ، یہاں ایک ٹریل بنایا گیا تھا اب اسے بند کر دیا گیا ہے تا کہ ادھر لوگ آئیں ہی نہیں ۔ جو جاتے ہیں انہیں پولیس تنگ کرتی ہے۔ پورا اہتمام ہے کہ ادھر لوگ نہ آئیں ۔ شکر پڑیاں نیشنل پارک کے بارے میں حکومت کے عزائم واضح ہیں کہ یہ جنگل اب کنکریٹ کا جنگل بننے جا رہا ہے۔ ہم چیخ چیخ کر تھک گئے لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں۔

یہ گویا کم عذاب تھا کہ اس عمل پر ہونے والی تنقید بھی ، رد عمل ، ضد ، اور انا کی لپیٹ میں آ گئی ۔ اصل معاملہ کہیں پیچھے رہ گیا اور خلط مبحث میں ناقدین نے بزم فضائل جنگلی توت سجا لی اور یہ بھی نہ سوچا کہ وہ سی ڈی اے کی ہی سہولت کاری کر رہے ہیں۔

مثلا ایک سینیئر تجزیہ کار ( جونیئر تجزیہ کار یہاں پیدا ہی نہیں ہوتے) نے لکھا کہ جنگلی توت سے تو چند لوگوں کو مسئلہ ہوتا تھا مگر انہیں کاٹ کر سارے شہر کو ماحولیاتی تباہی سے دوچار کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ یہ موقف حماقت کی حد تک غلط ہے اور بتا رہا ہے کہ سماجیات کی بنیادی چیزوں سے ہمارے تجزیہ کار کتنے لاعلم ہیں۔

جنگلی توت سے سانس کی تکلیف پیدا ہوتی ہے۔ بہار آتی ہے ہسپتال مریضوں سے بھر جاتے ہیں۔ یہ بیرون ملک سے منگوا کر پھینکے ہوئے بیج کا کمال ہے جس نے مقامی ماحول کو تباہ کر دیا۔ سر شام اس سے دھواں اٹھتا ہے ، پرندے اس پر گھونسلا نہیں بناتے۔ دمے ، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا باعث ہے۔ پولن کاؤنٹ اگر 1500 تک پہنچ جائے تو خطرناک تصور ہتا ہے لیکن اس درخت کی وجہ سے اسلام آباد میں پولن کاؤنٹ 82 ہزار تک جا پہنچتا ہے۔پچھلے سال بہار میں دو لاکھ سے زیادہ مریض ہسپتالوں میں پہنچے۔ جو نہیں پہنچے اور گھر میں ہی علاج کراتے رہے ان کی تعداد بھی لاکھوں میں رہی ہو گی۔
لیکن سینیئر تجزیہ کار فرماتے ہیں کہ اس سے کچھ لوگ ہی متاثر ہوتے ہیں۔ موصوف کو بیماری اور وبا کے فرق کا ہی علم نہیں۔ بیماری سے ہمیشہ کچھ لوگ ہی متاثر ہوتے ہیں۔ تو کیا بیماری کی روک تھام کے لیےا س وقت تک کچھ نہ کیا جائے جب تک سینیئر تجزیہ کاروں اور اینکروں کے اہل خانہ میں سے کوئی اس بیماری کا شکار نہ ہو جائے؟

ایک صاحب نے لکھ مارا کہ جنگلی توت سرے سے خبرناک ہی نہیں ہے ۔ یہ رویہ صحافت کی پستی کی اذیت ناک مثال ہے۔ کوئی ا ور ملک ہوتا تو اس قماش کی آزادی صحافت طبی معاملات میں غلط بیانی پر جیل میں پڑی ہوتی لیکن یہاں مزے ہیں۔ سو کر اٹھو ، موبائل اٹھاؤ اور دنیا جہاں کے امور پر جو جی میں آئے لکھ مارو ، کون پوچھنے والا ہے۔

سی ڈی اے کہا کہ ہم توت کاٹ کر اس کی جگہ متبادل درخت لگائیں گے تو اس پر ایک سینیئر تجزیہ کار نے علم و فضل کے دریا بہا دیے کہ دسمبر جنوری میں درخت کاٹ رہے ہو اس موسم میں تو متبادل درخت لگ ہی نہیں سکتے۔ موصوف کے خیال میں درخت کسی سٹوڈیو کا کیمرہ ہوتا ہے کہ ادھر سے اٹھا لو اور ادھر سے نیا رکھ دو۔ اللہ کے بندو یہ ہزاروں درخت ہیں۔ کٹنے میں وقت لگتا ہے ۔ یہ اب کٹیں گے تو اگلے شجر کاری کے موسم میں نیا درخت لگے گا۔

اسلام آباد شہر کی ایک سکیم ہے۔ ہر درخت کے کٹنے پر شور مچانا کوئی معتدل رویہ نہیں ہے۔ شہر پھیلے گا تو درخت کٹیں گے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ اس معاملے میں شہر کا جو ابتدائی پلان ہے وہ متاثر نہ ہو۔ یہ پلان کیا ہے ؟ اسے سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ اسے سمجھے بغیر غیر ضروری تنقید حماقت کےسوا کچھ نہیں۔

اسلام آباد کا ایک حصہ نیشنل پارک پہے۔ یہ جنگلات ہیں۔ یہاں کوئی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ راول جھیل ، مارگلہ کے پہاڑ ، اور شکر پڑیاں اس کا حصہ ہیں۔ یہاں جنگل کٹے گا تو یہ غیر قانونی ہے۔ اس پر احتجاج ہونا چاہیے ۔

لیکن اسلام آباد کا ایک حصہ وہ ہے جو دہائیوں پہلے ہی ایکوائر کر لیا گیا تھا اور ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تھا کہ جب ضرورت ہو گی استعمال کر لیا جائے گا۔ یہ جنگل نہیں ۔ یہاں تعمیرات کی ضرورت پڑے گی تو درخٹ کٹیں گے ۔ یہ منطقی اور فطری بات ہے۔ ابھی جو مارگلہ انکلیو بن رہا ہے وہ جنگلات پر نہیں ، ایسی ہی ایکوائرڈ زمین پر بن رہا ہے۔

اس کے لیے پارک روڈ پر ایک سڑک کو ساتھ ایک دوسری سڑک سے کنکٹ کیا گیا ہےا س پر بھی شور مچا ہوا ہے کہ جنگل کٹ گیا۔ یہ بھی جنگل نہیں ہے۔ یہ جگہ بھی سڑک سے دو سو فٹ تک کی جگہ چھوڑ کر دفاتر وغیرہ اور اداروں کے لیے مختص ہے۔ بہت سے ادارے یہاں بنے بھی ہوئے ہیں ۔ اس نصف فرلانگ کے علاقے میں ایک سڑک کو دوسری سڑک سے کنیکٹ کیا گیا ہےا ور اس پر بھی شور مچا ہے کہ جنگل کٹ گیا ، جنگل کٹ گیا۔

جنگل نہیں کٹا ، ان ہی مقاصد کے لیے ایکوائرڈ زمین کو استعمال کیا گیا ہے۔ کیوں کیا گیا ؟ا س لیے کیا گیا کہ ضرورت تھی۔ کری روڈ تنگ ہو چکی تھی۔ اس کو چوڑا کرنے کی کوشش ہوئی تو مقامی آبادی نے کہا ہماری دکانیں اور پلازےا ور گھر تباہ نہ کرو ، کوئی اور حل نکالو۔ تو ایک طرح سے بائی پاس کر کے مقامی لوگوں کی مارکیٹ اور بازار کو بچا لیا گیا۔ اس میں کیا غلط ہے؟

نیشنل پارک کو بچانے کے لیے ایک جائز شکایت اور جائز مطالبے کو یاروں نے اپنی ضد ، کم عقلی ، اور انا کی وجہ سے تماشا بنا دیا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان کا میڈیا ٹاؤن جس جگہ پر بنایا گیا تھا وہ جگہ باقاعدہ جنگل کی تھی۔ وہاں کسی جونیئر یا سینیئر تجزیہ کار کا غیرت ایمانی نہیں جاگا تھا ۔ پارک روڈ پر سی ڈی اے کی پارک انکلیو نامی سوسائٹی میں تو ایسی شاندار قرعہ اندازی ہوئی کہ نہ صرف سینیئر صحافیوں کے پلاٹ نکلے بلکہ ساتھ ساتھ نکلے اس لیے وہاں کسی کو نظر نہ آیا کہ درخت کٹ گئے ہیں۔
سی ڈی اے نیشنل پارک کے جنگلات کو تباہ کر رہا ہے وہاں تنقید ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ہمارے ہاں اندھا دھند تنقید نے عملا سی ڈی اے کی سہولت کاری کر دی ہے ۔ کاش ہمیں کسی معاملے میں اعتدال سے کام لینا آتا ہوتا۔ ہم ہر معاملے میں ڈگڈگی نہ بجاتے۔ تماشا نہ لگاتے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں