سندھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
کراچی میں سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ذوالفقار علی لارک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایک اہم انٹیلی جنس ایجنسی کو اطلاع ملی تھی کہ دہشت گرد کراچی میں حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، دہشت گردوں کا مقصد مخصوص اہداف کو نشانہ بنا کر قومی سلامتی کو غیر مستحکم کرنا تھا۔
ڈی آئی جی غلام اظفر مہیسر نے کہا کہ اس اطلاع کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں، اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو اور سندھ و بلوچستان سی ٹی ڈی نے مشترکہ حکمت عملی تیار کی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف مقامات پر انٹیلی جنس اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ خصوصی توجہ کراچی کے مغربی علاقوں پر مرکوز رکھی گئی۔
ان کے مطابق، کئی روز کی مسلسل اور مربوط کوششوں کے بعد رئیس گوٹھ، کراچی میں ایک دہشت گرد ٹھکانے کی نشاندہی کی گئی، جہاں بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد تیار کیا گیا تھا۔ اطلاع ملنے پر سندھ سی ٹی ڈی اور اہم انٹیلی جنس ایجنسی نے مشترکہ کارروائی کی، جس کے دوران ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ تین یا چار دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ مفرور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق، کارروائی کے دوران ایک مزدا ٹرک برآمد ہوا جو دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 30 ڈرم دھماکہ خیز مواد، پانچ سلنڈر، تقریبا دو ہزار کلوگرام بارودی مواد اور ڈیٹونیٹرز تحویل میں لیے گئے۔ گرفتار دہشت گرد کی فراہم کردہ معلومات پر مزید چھ مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن کے نتیجے میں مزید دو دہشت گردوں کو دھماکہ خیز مواد سمیت گرفتار کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر تین دہشت گرد گرفتار کیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار دہشت گردوں نے انکشاف کیا کہ ان کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بشیر زیب نیٹ ورک اور مجید بریگیڈ سے ہے۔ ان کے مطابق، مزید تفتیش جاری ہے اور اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کی تمام منصوبہ بندی ملک سے باہر کی گئی تھی اور اس میں ملوث سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، کراچی منتقل کیا گیا دھماکہ خیز مواد حملے کے لیے بالکل تیار تھا اور تمام اداروں کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ایک بڑے سانحے کو روکنا ممکن ہوا۔
ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ برآمد ہونے والا دھماکہ خیز مواد مختلف اقسام کا تھا، جس میں کمرشل ایکسپلوسوز اور دیگر اشیا کا امتزاج شامل تھا، جبکہ کچھ مواد بلوچستان کے پہاڑی علاقوں کے راستے اسمگل ہو کر لایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی