پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے موجودہ علاقائی حالات اور حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اسٹریٹجک عسکری تعاون، مشترکہ معاشی مفادات اور مضبوط اسلامی رشتے پر قائم ہیں۔ ان روابط میں معاشی معاونت اور توانائی کی فراہمی نمایاں رہی ہے، جبکہ ریاض طویل عرصے سے اسلام آباد کے لیے مالی امداد اور تیل کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔
دونوں ممالک نے رواں برس ستمبر میں ایک اہم باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ دونوں ممالک پر حملے کے مترادف تصور کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق، اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ نے ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار نے نئے سال کی مناسبت سے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا، جس پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے گرمجوشی سے جواب دیا۔
اس سے قبل سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کی بندرگاہ مکالا پر جنوبی علیحدگی پسندوں کو بیرونی فوجی معاونت فراہم کیے جانے کے دعوے کے تحت حملہ کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے پاکستان نے یمن میں امن و استحکام کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔
دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان نے سعودی عرب کی سفارتی کاوشوں کی حمایت کی اور متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو بھی سراہا