ماہرینِ صحت کے مطابق ناشتہ دن کا سب سے اہم کھانا قرار دیا جاتا ہے، جو نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے بلکہ ذہنی کارکردگی، توجہ اور موڈ پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ جدید مصروف طرزِ زندگی میں ناشتہ چھوڑ دینا ایک عام عادت بنتی جا رہی ہے، جس کے منفی اثرات صحت پر نمایاں طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔
رات کی طویل نیند کے بعد جسم اپنی توانائی کے ذخائر استعمال کر چکا ہوتا ہے، ایسے میں صبح کا ناشتہ جسم کو نئی توانائی فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جئی، دودھ، انڈے، تازہ پھل اور خشک میوہ جات پر مشتمل متوازن ناشتہ نہ صرف جسمانی طاقت بڑھاتا ہے بلکہ دماغی ارتکاز کو بھی بہتر بناتا ہے۔
تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں، اکثر تھکن، کمزوری، چڑچڑاپن اور توجہ میں کمی جیسے مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ خالی پیٹ رہنے سے خون میں شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس سے بے چینی اور مزاج میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، متوازن ناشتہ بلڈ شوگر کو متوازن رکھتا ہے اور دن بھر توانائی برقرار رکھتا ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ وزن کو متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو لوگ صبح کا کھانا چھوڑ دیتے ہیں، وہ عام طور پر دن کے بعد کے حصے میں زیادہ اور غیر صحت مند خوراک کھانے لگتے ہیں۔ ایک صحت بخش ناشتہ بھوک کو قابو میں رکھتا ہے، میٹابولزم کو متحرک کرتا ہے اور وزن بڑھنے کے امکانات کم کرتا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ناشتہ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہ عادت دل کے امراض، ذیابطیس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے مسائل کے خطرات کو کم کرتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کے لیے ناشتہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ یہ تعلیمی کارکردگی، یادداشت اور جسمانی نشوونما میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔
طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایک صحت مند ناشتہ میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، وٹامنز اور صحت مند چکنائیاں شامل ہونی چاہئیں — جیسے جئی، دہی، انڈے، پھل اور گری دار میوے۔ ان اجزاء کا امتزاج دن بھر کے لیے متوازن توانائی فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ چھوڑنا جسمانی کمزوری، ذہنی دباؤ اور غیر صحت مند کھانے کی عادات کی طرف پہلا قدم ہے۔ ایک متوازن ناشتہ نہ صرف دن کے آغاز کو بہتر بناتا ہے بلکہ ایک صحت مند اور پُر توانائی زندگی کی بنیاد بھی رکھتا ہے