چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف علاقوں میں حالیہ تحقیق اور پرانی دریافتوں کی بنیاد پر دنیا کی قدیم ترین اور بہترین حالت میں محفوظ ممیوں کا انکشاف ہوا ہے، جن کی عمر ہزاروں سال پرانی ہے اور بعض مثالیں تو مصری ممیوں سے بھی پہلے کی ہیں۔
چینی صوبے ہونان میں 1968 کے دوران دریافت ہونے والی ژن ژہوئیز نامی ممی دنیا کی حیرت انگیز طور پر محفوظ ممیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس ممی کی عمر تقریباً 2,100 سال پرانی ہے اور اس کی جلد نرم، پلکیں، بال، حتیٰ کہ اندرونی اعضا بھی محفوظ حالت میں موجود ہیں، جو ممی سازی کے قدیم اور پیچیدہ فن کی گواہی دیتے ہیں۔
چین کے شمال مغربی علاقے ژنجیانگ میں واقع تکلاماکان صحرا سے ملنے والی تارم بیسن کی ممیوں نے ماہرین کو مزید حیران کیا۔ ان ممیوں کی عمر تقریباً 1800 قبل مسیح یا اس سے بھی زیادہ قدیم ہے، جبکہ بیوٹی آف لولان کے نام سے جانی جانے والی ایک مشہور ممی کا تعلق تقریباً 3,800 قبل مسیح کے دور سے بتایا جاتا ہے، جو اسے دنیا کی قدیم ترین محفوظ لاشوں میں شامل کرتی ہے۔
تبت کے علاقے میں واقع منگائی کنگھائی سے بھی ایک ممی دریافت ہوئی ہے، جو لگ بھگ 1700 سال پرانی ہے۔ اس کی حالت بھی کافی حد تک محفوظ ہے۔ ممی سازی کی یہ دریافتیں صرف آثار قدیمہ کے لیے ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے مطالعے کے لیے بھی ایک قیمتی خزانہ بن گئی ہیں۔
حال ہی میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے بعض علاقوں میں تقریباً 10,000 سال قبل ہی ممی بنانے کے ابتدائی طریقے رائج تھے۔ اس تحقیق کے مطابق، ان قدیم تہذیبوں نے مردوں کے جسموں کو خاص تکنیکوں سے دھواں دے کر اور خشک کر کے محفوظ کیا، جسے مکمل طور پر جلانے کے بجائے "smoking” کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ روایت ممکنہ طور پر مصر اور جنوبی امریکا (چِلی) جیسی مشہور ممی سازی کی ثقافتوں سے بھی پہلے کی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں انسانی تاریخ کے ایسے گوشوں پر روشنی ڈالتی ہیں جن پر ابھی تک کم توجہ دی گئی تھی، اور اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ممی سازی صرف مصر تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی ہزاروں سال قبل اس فن پر عبور حاصل تھا۔