سیلاب: پنجاب کا شہر سیالکوٹ سب سے زیادہ متاثر، 11 افراد جاں بحق

پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے جہاں ریسکیو حکام کے مطابق، اب تک 11 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ دو کمسن بچے تاحال لاپتہ ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان رانا وسیم کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں تحصیل سمبڑیال کے گاؤں ماجرہ کلاں کے ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں۔ جان بحق ہونے والوں میں 35 سالہ عمران ارشد، اُن کی اہلیہ فرخ عمران اور دو کم عمر بچے شامل ہیں، جبکہ اسی خاندان کی دو بچیوں زروا (6 سال) اور زرقا (ڈیڑھ سال) کی تلاش جاری ہے۔ اب تک ایک ہزار 257 افراد کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام اور مقامی نمائندوں کے مطابق سیالکوٹ میں تباہی دریا کے کنارے ٹوٹنے سے نہیں بلکہ جموں سے آنے والے بڑے نالوں میں طغیانی کے باعث ہوئی۔’نالہ ایک ‘شہر کے وسط سے گزرتا ہے،’نالہ ڈیک’ ظفروال سے ہو کر تحصیل پسرور میں داخل ہوتا ہےجبکہ ‘نالہ پلکھو’ کینٹ ایریا سے ہوتا ہوا شہر میں آتا ہے اور سمبڑیال کے راستے دریائے چناب میں شامل ہوتا ہے۔

نالہ پلکھو کے قریب بنائی گئی عسکری ٹو کالونی سمیت شہر کے کئی علاقے تاحال تین سے پانچ فٹ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
مقامی رہائشیوں اور نمائندوں نے الزام لگایا ہے کہ ان نالوں کے دہانوں اور کناروں پر غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم کی گئیں جنہوں نے پانی کے قدرتی راستے تنگ کر دیے۔ ان کے مطابق کم از کم 15 سوسائٹیاں غیرقانونی طور پر نالوں کے اوپر تعمیر کی گئیں، جس کے باعث پانی اوور فلو ہو کر شہری علاقوں میں داخل ہوا۔

صوبائی حکومت نے اربن فلڈنگ کے بعد ایم ڈی واسا سیالکوٹ ابوبکر عمران کو معطل کر دیا اور فیصل شہزاد کو اضافی چارج دے دیا۔صوبائی سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے کہا ہے کہ ذمہ دار افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی ہو گی۔ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کے مطابق جب تک نالوں میں پانی اپنی سطح پر نہیں آتا، نشیبی علاقوں سے نکاسی ممکن نہیں۔

سیالکوٹ شہر کی 45 لاکھ آبادی میں سے ہزاروں افراد اب بھی متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہیں جبکہ سیلابی پانی گھروں اور سرکاری دفاتر تک داخل ہو چکا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں