نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے دریائے چناب اور دریائے راوی میں ممکنہ شدید سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق، آنے والے دنوں میں دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوگا جس سے جھنگ اور قریبی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق، 31 اگست 2025 کو سہ پہر چار بجے کے قریب ٹریمو بیراج پر پانی کا بہاؤ سات لاکھ سے آٹھ لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے، جو خطرناک حد تک شدید سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ ریلا تین ستمبر کی دوپہر تک پنجند پہنچے گا، جہاں بہاؤ چھ لاکھ 50 ہزار سے سات لاکھ کیوسک تک رہنے کا خدشہ ہے۔
ممکنہ متاثرہ اضلاع بشمول جھنگ، حافظ آباد، چنیوٹ، ملتان، پنجند اور بہاولپور کے لیے انخلا کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ دریائے چناب کے بائیں کنارے پر واقع 18 ہزاری کا علاقہ سیلابی دباؤ کم کرنے کے لیے بریچنگ سائیٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 29 اگست کی صبح سات بجے بلاکی بیراج پر ایک لاکھ 50 ہزار سے دو لاکھ کیوسک تک بلند سطح سیلاب کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق، یہ ریلا یکم ستمبر تک سدھنائی تک پہنچ جائے گا، جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 25 ہزار سے ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک تک خطرناک سطح پر رہنے کا امکان ہے۔
ہائی رسک قرار دیے گئے لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر اور کوٹ بیگم کے علاوہ شیخوپورہ اور فیروزوالہ میں فیض پور خو، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری اور کوٹ عبدالمال شامل ہیں۔ اسی طرح ننکانہ صاحب کے گنیش پور، قصور کے پتوکی اور پھول نگر، خانیوال کے غوث پور، میاں چنوں، کبیروالہ اور دیگر علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تمام ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے اور نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ سول اور عسکری ادارے آپس میں رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی کی جا سکے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز کے قریب رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں، اور ہنگامی صورتحال میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں۔ مزید کہا گیا ہے کہ شہری ہنگامی کٹ (پانی، خوراک اور ادویات) ہمراہ رکھیں اور اہم دستاویزات کو محفوظ بنائیں، جب کہ مزید رہنمائی کے لیے این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔