کینیڈین فوٹو جرنلسٹ ویلری زنک نے آٹھ سال بعد رائٹرز سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اب ایسے ادارے کے ساتھ کام نہیں کر سکتیں جو اسرائیل کے ہاتھوں صحافیوں کے قتل کو “جواز فراہم کرتا ہے۔
ویلری زنک کا کہنا ہے کہ مغربی میڈیا، خاص طور پر رائٹرز، اسرائیلی فوج کے دعووں کو بغیر تصدیق کے شائع کرتا ہے اور اس رویے نے غزہ میں صحافیوں کے قتل کے لیے راستہ ہموار کیا ہے۔ ان کے مطابق صرف دو سال میں غزہ میں 273 صحافی مارے گئے ہیں، جو پچھلی کئی بڑی جنگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ الجزیرہ کے رپورٹر انس الشریف کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، لیکن رائٹرز نے ان پر لگایا گیا اسرائیلی الزام بغیر تحقیق کے رپورٹ کر دیا۔
گزشتہ دنوں خان یونس کے ناصر اسپتال پر اسرائیلی حملے میں بھی رائٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری اور الجزیرہ کے محمد سلامہ سمیت 21 افراد جاں بحق ہوئے۔ زنک نے اس حملے کو “ڈبل ٹَیپ” یعنی پہلے شہریوں پر اور پھر صحافیوں و امدادی کارکنوں پر حملہ قرار دیا۔
ویلری زنک نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اب رائٹرز کا پریس کارڈ “شرمندگی اور دکھ” کے ساتھ نہیں پہن سکتیں اور اب اپنا کام غزہ کے بہادر صحافیوں کے نام وقف کریں گی، جنہیں وہ “دنیا کے سب سے نڈر اور بہترین صحافی” قرار دیتی ہیں۔