آج میرے ساتھ عجب ماجرا ہوا

آج میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ ہوا جس نے ایک طرح سے ہلا کر بھی رکھ دیا۔

مجھےدوپہر کو فون آیا۔ میں آفس میں تھا۔ کوئی شخص کہنے لگا کہ میں تھانہ صدر سے بات کر رہا ہوں۔ ہم نے تین لڑکےگرفتار کئے ہیں، ان میں سے ایک کہہ رہا ہے کہ وہ آپ کا بیٹا ہے۔ آپ عامر ہاشم خان ہی بول رہے ہیں ناں۔

میں فطری پر یہ سن کر پریشان ہوگیا کہ یہ کیا ماجرا ہوگیا۔ وہ مبینہ پولیس والا کہنے لگا کہ اس کے دودوست بھی ہیں اور ان پر الزام ہے کہ کسی لڑکی کے ساتھ زیادتی کی ہے ، یہ ان کےساتھ نہیں تھا ، مگر چونکہ دوست ہے ان کا تو مدعی اس پر بھی الزام لگا رہے ہیں۔

میں نے اسے کہا کہ میرے بیٹے کو تو ڈینگی ہوا ہے، پانچ دن سے وہ گھر ہی میں تھا، ممکن ہے آج گھر سے نکلا ہو ، کسی دوست کے ساتھ ہو تو آپ اس پر یوں جعلی پرچہ نہ ڈالیں ۔ اپنا تعارف بھی کرایا۔

اس پر وہ بڑی شائستگی اور تہذیب سے کہنے لگا، سر آپ کی ہم عزت کرتے ہیں۔ اس لئے اس لڑکے کو الگ کر رہےہیں ، مگر اس پر کچھ معاملہ کرنا پڑے گا۔ پھر اس نے اونچی آواز میں کہا کہ لڑکے سے بات کراو۔ پھر ایک لڑکا روتی ہوئی آواز میں بولا، ہچکیاں لیتے ہوئے کہ غلطی ہوگئی، میں دوست کے ساتھ تھا انہوں نے ناجائز پکڑ لیا ہے، انہیں کہیں کہ چھوڑ دیں، تھانے نہ بھیجیں۔

سچی بات تو یہ ہے کہ میں پریشان تھا یا واقعی اس کی آواز بڑے بیٹے سے ملتی جلتی تھی ۔ میں مزید پریشان ہوگیا۔

اس مبینہ پولیس والے نے کہا جناب آپ کے بیٹے کو چھوڑ دیتے ہیں، بس آپ بیس ہزار روپے جاز کیش کرا دیں۔ اس پر میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے کہا یار میں صحافی ہوں، مگر صحافیوں کے پاس پیسے کہاں ہوتے ہیں۔ البتہ کہو تو کسی بھی اعلیٰ پولیس افسر سےبات کرا دیتا ہوں۔ سی سی پی او یا کوئی اور تمہارا ایس پی وغیرہ۔ اس نے بے رخی سے کہا نہیں سر ہمیں کسی سے بات نہیں کرنی، آپ نے اگر فوری جاز کیش کرانا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں لے کر تھانے جا رہا ہوں۔ اس پر میرا شک مستحکم ہوگیا کیونکہ ایک اے ایس آئی کی یہ مجال کہاں کہ کوئی اس کے ایس پی سے فون کرانے یا سی سی پی او سے فون کرانے کی بات کرے اور وہ اسے یوں مسترد کر دے ۔

میں نے کہا کہ دوبارہ بات کراو لڑکے سے۔ وہ دوبارہ فون پر آیا اور پھر سےہچکیاں لینے لگا۔ میں نے اس سے فوری طور پر ایک ایسا فیملی کا پرسنل سوال پوچھا کہ جو اس کےکسی قریبی ترین دوست کو بھی علم نہیں ہو سکتا تھا، درحقیقت میرے بچوں کے علاوہ شائد کوئی اور جواب بھی نہ دے سکے اس کا۔ وہ بوکھلا گیا اور مجھے آواز سنائی دی کہ مجھے سے فلاں بات پوچھ رہے ہیں۔ پھر سے اسی بدبخت فراڈی نے فون لیا اور کہا کہ سر چلیں آپ دس ہزارجاز کیش بھیج دیں۔ میں نے کہا میرے پاس جاز کیش نہیں ہے ،میں خود تھانے آ جاتا ہوں، کیش لے لینا۔ مگر پہلے میرے بیٹے سے میری بات کراو۔ اس پر وہ کہنےلگا کہ میں روڈ پر کھڑا ہوں۔ شور بہت ہے ، کیسے بات کراوں۔ آپ نے جاز کیش کرانا ہے تو کریں ورنہ ہم تھانے لے کر جا رہے ہیں اور پرچہ دے دیں گے۔

میں نے فون بند کیا کہ ایک منٹ میں کرتا ہوں۔ اپنے بیٹے کا نمبر ملایا تو فون بند تھا۔ پریشانی ہوئی۔ گھر فون کیا تو بیگم نے کہا کہ وہ تو سو رہا ہے۔ میری سانس می ںسانس آئی۔ اندازہ تو ہوگیا تھا کہ فراڈ ہو رہا تھا، مگر پھر بھی پریشانی رہتی ہی ہے۔ دراصل ڈینگی کے بعد کمزوری ہوجاتی ہے تو بیٹے کو کہا ہوا ہے کہ دو تین دن گھر سےنہ نکلنا ، ریسٹ کرو۔ الحمداللہ وہ گھر پر ہی تھا۔ فون چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوچکا تھا۔

میں سوچتا رہا کہ اگر وہ گھر پر نہ ہوتا تو شائد میں ٹھگ لیا جاتا یا میں نے یہ سب کچھ پہلے سے پڑھ، سن نہیں رکھا ہوتا تو پھر بھی ٹھگا جاتا، بیٹے کو بلا کر اس سے خفیہ سوال پوچھنے کا خیال ہی نہ آتا۔

خیر الحمداللہ بچت ہوگئی۔ اس نمبر پر پھر کالیں کیں کہ اٹھائے تو گالیوں کا کوٹہ تو خالی کیا جائے، اس بدبخت نے اٹھایا ہی نہیں۔ اللہ اسے اور اس کی اگلی نسلوں کو بھی برباد کرے۔

فون نمبر یہ تھا
03203709300

سائبر کرائم والوں کو درخواست دینے کا ارادہ ہے، گو ہونا تو کچھ بھی نہیں۔ اس پوسٹ کا مگر مقصد یہ تھا کہ آپ لوگ ہوشیار ہوجائیں، اس قدر فراڈ ہورہے ہیں اس طریقے سے کہ ہر کوئی گرفت میں آ رہا ہے۔ میرے ساتھ ذاتی طور پر نہ ہوتا تو اس کی شدت کا اندازہ نہیں ہوتا ۔

اس نے میرا نام شائد فون نمبر سے پک لیا ہوگا، ممکن ہے فیس بک سے لیا ہو، پھر تو بیٹے کا بھی آ گیا ہوگا کہ اس کے لئےپوسٹیں کی تھیں۔ خوش قسمتی سے بیٹا گھر پر ہی تھا، سو رہا تھا، ورنہ پریشانی زیادہ بڑھ جاتی ، خاص کر جب اس کا فون بھی بند ہوتا۔

ایک بات سمجھ میں آئی اور آپ سب کو بھی اس کامشورہ ہے کہ اپنے گھر میں یہ چیز ڈسکس کریں، اپنی بیگم کو بھی بتا دیں اور بچوں کو بھی اور کوئی خاص کوڈ، خفیہ سوال وغیرہ طے کر لیں پہلے سے کہ ایسی صورتحال میں فوری طور پر یہ پوچھنا ہے۔ آپ کو ایسا فون آئےیا آپ کی بیگم کو آئے، انہیں چاہیے کہ پہلے لڑکے سے بات کرنے کا اصرار کریں اور پھر وہی خفیہ سوال کریں جس کا جواب کسی اور کو معلوم ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ اگر وہ جواب دینے سے کترائے تو پھر سمجھ لیں کہ دال میں کالا ہے۔

یہ ذہن میں رہے کہ روتی ہوئی آواز ایک جیسی لگتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اپنے بچے کی آواز ہے۔ ویڈیو کال پر بھی اصرار کیا جا سکتا ہے، مگر ایسے میں وہ فراڈی یقینی طور پر یہ کہے گا کہ میرےپاس انٹرنیٹ نہیں۔

بہرحال اس قسم کے فراڈ کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوجائیں۔

آج کل فراڈ کی ایک اور قسم میں واٹس ایپ نمبر ہیک ہو رہا ہے۔ اس میں بھی مختلف طریقے آزمائے جاتے ہیں، ایک کوڈ آتا ہے جو اگر آپ نے کسی کو بتا دیا تو واٹس ایپ نمبر ہیک ہوگیا۔ اداکارہ اسماعباس کا اگلے روز واٹس ایپ نمبر ہیک ہوگیا اور پھر اس نمبر سے مختلف لوگوں کو میسج بھیج کر پیسے مانگے گئے۔ اس میں بھی یہی تھا کہ انہیں ایک کال آئی کہ آپ کے نام پر پارسل آیا ہے، کوڈ فون پر بھیجا ہے، وہ بتا دیں تو پارسل ڈیلیور ہوجائےگا۔ ان کی بیٹی اداکارہ زارا عباس نےانہیں کراچی سے انہی دنوں کوئی پارسل بھیج بھی رکھا تھا، اسماعباس نےفوری فون چیک کیا، کوڈ آیا تھاوہ بتا دیااور پھر واٹس ایپ نمبر ہی ہیک ہوگیا۔

اس لئےکسی بھی صورت میں، کسی بھی قیمت پر کوئی بھی کوڈ کسی کو نہ بتائیں۔ کوئی پارسل ہے یا کچھ اور ، جس نے ڈیلیور کرنا ہے، وہ کرےاس کےلئے کسی کوڈ کی ضرورت نہیں پڑتی۔

بعض اوقات سکرین شاٹ آجاتا ہے کہ کسی نے جاز کیش بھیجا ہے اور پھر کسی کی پریشان آواز میں فون آ جاتا ہے کہ غلطی سےپیسے چلے گئے، آپ مجھےجاز کیش واپس کرا دیں۔ اگر آپ کےجاز کیش میں رقم زیادہ ہے اور ٹرانزیکشن چلتی رہتی ہے تو آپ ہمدردی میں پیسےبھیج دیں گے اور یوں لٹ جائیں گے، بعد میں پتہ چلے گا کہ وہ سکرین شاٹ تو فیک بنا ہوا تھا۔

یہ بات یاد رکھیں کہ ہر فراڈی پوری کوشش کرتا ہے کہ جلد از جلد آپ اسے پیسے بھیج دیں، کیونکہ اسے بھی علم ہے کہ اگر تھوڑی سی بھی دیرہوئی تو شائد عقل کام کر جائےاور آپ فراڈ سےبچ جائیں۔ اس لئے جو زیادہ عجلت کرے ، اس پر فوری شک کریں۔ ہوشیار رہیں، اللہ سے مدد بھی مانگتے رہیں۔ یہ ہر اعتبار سےفتنے کا دور ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں