ہمارے روز مرہ کے مشروبات میں مائیکرو پلاسٹک ذرات ہوتے ہیں : نئی تحقیق

تحقیق میں 155 قسم کے عام مشروبات شامل تھے، جن میں گرم اور ٹھنڈی چائے اور کافی کے علاوہ جوس، انرجی ڈرنکس اور کاربونیٹڈ مشروبات شامل ہیں.

برطانیہ کی یونیورسٹی آف برمنگھم کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ کے عام مشروبات جیسے چائے اور کافی میں مائیکرو پلاسٹک ذرات کی بلند سطحیں پائی جاتی ہیں، جو صحت اور ماحول دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

امریکی ویب سائٹ نیوز میڈیکل کے مطابق یہ ذرات انسانی جسم کے مختلف حصوں، مثلاً خون، دماغ اور تولیدی اعضاء میں بھی پائے گئے ہیں … اور مشروبات (گرم و ٹھنڈے) ان کے جسم میں داخل ہونے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

ماہرین نے 155 قسم کے مشروبات کا تجزیہ کیا، جن میں گرم اور ٹھنڈی چائے اور کافی، جوس، انرجی ڈرنکس اور کاربونیٹڈ ڈرنکس شامل تھے۔

نتائج کے مطابق گرم مشروبات میں سب سے زیادہ مائیکرو پلاسٹک ذرات پائے گئے، جو زیادہ تر بلند درجہ حرارت اور تیاری کے طریقے سے جڑے ہوئے ہیں۔

تحقیق میں فی لیٹر مشروبات میں پائے جانے والے ذرات کی اوسط کچھ یوں تھی :

گرم چائے : 49 – 81 ذرات

گرم کافی : 29 – 57 ذرات

آئس ٹی : 24 – 38 ذرات

آئسڈ کافی : 31 – 43 ذرات

جوس : 19 – 41 ذرات

انرجی ڈرنکس : 14- 36 ذرات

کولڈ ڈرنکس : 13- 21 ذرات

تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سنگل یوز (ایک بار استعمال ہونے والے) کپ مائیکرو پلاسٹک ذرات کی منتقلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، بالخصوص گرم کافی کے معاملے میں۔ سنگل یوز کپ میں پیش کی گئی گرم چائے میں اوسطاً 22 ذرات فی کپ پائے گئے، جب کہ شیشے کے کپ میں یہ تعداد صرف 14 ذرات تھی۔

اس کے علاوہ اعلیٰ معیار کے ٹی بیگز سے بھی زیادہ ذرات خارج ہوئے، جو 24–30 ذرات فی کپ تک ریکارڈ کیے گئے۔
ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پلاسٹک کے کپ اور ٹی بیگز کا کم سے کم استعمال کریں اور پائیدار متبادل اپنائیں، تاکہ ان مضر ذرات کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں