آج تو یہ بہت پرانی بات لگتی ہے، لگ بھگ تیس سال پرانی۔ میں پہلی بار ملازمت کی غرض سے لاہور آیااور اردو ڈائجسٹ میں کام شروع کر دیا۔ کچھ عرصے کے بعد اپنے ایک کولیگ کے کہنے پر پنجاب پبلک لائبریری میں ایک چھوٹے سے سیمینار میں شریک ہوا۔ایک تیس پینتیس سالہ سفید کنپٹیوں والے وجیہہ ماہر نفسیات نے دو ڈھائی گھنٹے کا لیکچر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ عابد بلال نامی وہ سائیکالوجسٹ ایک معروف کلینک کے ساتھ منسلک ہیں۔ آج کل تو خیر عابد بلال بڑے مستند اور معروف ماہر نفسیات کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اس دن کے اس لیکچر نے ایک چھوٹے شہر سے آنے والے اس پینڈو سے نوجوان کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں۔ پڑھنے کا ہمیں شروع سے جنون کی حد تک شوق تھا،جہاں جہاں سے کوئی کتاب ہاتھ لگتی،موضوع خواہ جو بھی ہوتا، اسے چاٹ جاتے۔ تاہم ان دنوں سیلف امپروومنٹ یا سیلف ہیلپ کے موضوعات پر کتابیں عام نہیں ہوئی تھیں نہ ہی ان کے حوالے سے انگریزی زبان میں لٹریچر ملنا آسان تھا۔ اب تو مارکیٹ میں اس موضوع پر کتابوں کاسیلاب آیا ہوا ہے۔
ڈاکٹر عابدبلال کے اس لیکچر میں کئی ایسی تراکیب معلوم ہوئیں،جنہوں نے سوچنے کا انداز ہی بدل دیا۔ان میں ایک لک(Luck)تھا۔ بتایا گیا کہ اگر لک ہو تو انسان ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ یہ بات سن کر میں تقدیر اور تدبیرکے گورکھ دھندے پر غور کر رہا تھا توپتہ چلا کہ ماہرین کے نزدیک لک سے مراد ہے (Labor Under Correct Knowledge) ۔ یعنی درست سمت میں محنت۔ اس پر غور کیا تو سمجھ آ گئی کہ ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یار لوگ بغیر سوچے سمجھے غلط سمت میں لگے رہتے ہیں۔ برسوں کی دن رات محنت کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو غلط شعبے اور پروفیشن میں آگئے ہیں۔ بہت سے تو پینتیس چالیس سال کی عمر میں نیا شعبہ اختیار کر کے دوبارہ صفر سے کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
اس موضوع پر بعد میں بہت کچھ پڑھا۔ ایک مغربی ویب میگزین میں لکی یعنی خوش قسمت کے حوالے سے ایک اور دلچسپ تھیوری پڑھی جو یاد رہی، اس پر کچھ لکھا بھی۔ نائجیریا سے تعلق رکھنے والے ایک کونسلنگ کے ماہر نے لکی (LUCKY)کی ترکیب استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ دنیا میں ہر ایک شخص لکی بننا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ قسمت اس پر مہربان ہوجائے اور معجزانہ طور پر اسے منزل مل جائے۔ امریکہ میں مقیم اس نائجیرین ایکسپرٹ نے بھی Luckyکے ہر لفظ کو الگ کر کے معنی کی ایک نئی دنیا دریافت کی ہے ۔اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ ہمارے ہاں اس تصور کو سمجھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ہم لوگ قسمت کے مہربان ہونے کے لئے طرح طرح کے حربے آزماتے ہیں، ننگ دھڑنگ ملنگوں، فقیروں، بابوں کے پاس جانے سے لے کر سعد پتھروں اور انگوٹھیوں کے استعمال تک۔ جو کام ہوسکتا ہے وہ کرتے نہیں، جو بس میں نہیں،اس کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔
سیکھنا(L – Learning)
کامیابی کے سفر میں جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ ہمارے ہاں بالکل ہی نہیں پائی جاتی۔ ہمارے ہاں بیشتر لوگ پہلا بریک تھرو ملنے کے بعد جب کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی شخصیت کو بہتر کرنے، اپنے علم میں اضافہ اور ہنر کو پالش کرنا گویا بھول ہی جاتے ہیں۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے برسوں سے کسی کتاب کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔کوئی قابل غوریا فکر انگیز بات سنی یا پڑھی نہیں۔ حتیٰ کہ معیاری موضوعات پر بنی اچھی فلمیں تک دیکھنے سے گریز کرتے ہیں کہ شائد کوئی اچھا یا نیا خیال ذہن تک سرائیت نہ کر جائے۔ فیصل آباد کے سابق رکن اسمبلی اور وزیر میاں زاہد سرفراز پاکستانی بیوروکریٹس کے بارے میں طنزیہ یہ جملہ کہا کرتے ہیں کہ سول سروس کے امتحان میں کامیابی کے بعد یہ لوگ کتابوں کوچھونا بھی پسندنہیں کرتے گویا یہ مان بہن کی طرح ان کے لئے محرم ہوچکی ہوں۔ افسوس تو یہ ہے کہ جن شعبوں کو تعلق لکھنے پڑھنے سے ہے جیسے صحافت،وہاں بھی یہی صورتحال ہے۔ ایسے بہت سے رپورٹروں اور سب ایڈیٹروں کو جانتا ہوں جو فخریہ خود کو علم دشمن کہتے ہیں اور کتاب تو دور کی بات ہے اپنا اخبار تک نہیں پڑھ پاتے۔ ایک زمانہ تھا ہماری یونیورسٹیاں علم وادب کی بحثوں کا مرکز تھیں، اب یہ حال ہے کہ پروفیسر حضرات کسی نئی کتاب کو پڑھنا تو درکنار اس کے نام سے واقف نہیں ہوتے۔
انڈر سٹینڈنگ(U – Understanding)
زندگی کے بارے میں واضح تصور رکھنا، اس کی مکمل انڈرسٹینڈنگ ہونا بھی ازحد ضروری ہے۔ انسان کی سوچ ہی اس کی حدود طے کرتی ہے۔ سوچ ہی اسے آگے لے جاتی یا ایک جگہ پر جامد رکھتی ہے۔ہر ایک کے پاس اس کی زندگی، مستقبل اور کچھ کرگزرنے کا پورا روڈ میپ ہونا چاہیے۔ اسے اپنی صلاحیتوں، اپنی استعداد اور کمزوریوں کا بھی ادراک ہو۔ ایک مغربی لوک دانش کے مطابق جو شخص سوچنا چھوڑ دیتا ہے، اس روز سے اس کے ڈوبنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
قابلیت(C – Competence)
زندگی کی دوڑ میں سب سے زیادہ کوتاہی ہم اسی میدان میں کرتے ہیں۔ قابلیت یا کمپیٹنٹ ہونے کا مطلب کسی بھی کام کو انتہائی اعلیٰ مہارت کے ساتھ کرنا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے غیرمعمولی پریکٹس بھی درکار ہے اور اپنے ہنر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا سلیقہ بھی۔ایک طرف تو محنت نہ کرنے کی عادت ہمیں پریکٹس نہ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور دوسری طرف تن آسانی اور بے توجہی سے اس صلاحیت کو پالش نہیں کر پاتے۔ ایسے کئی لوگوں سے آپ کو بھی ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جن میں نیچرل ٹیلنٹ پایا جاتا ہے،مگر وہ اپنی سستی،نالائقی اور کمزوری سے اسے استعمال نہ کر پائے۔ جن لوگوں کو قدرت نے غیرمعمولی کام کے لئے غیرمعمولی ہنر دے کر بھیجا تھا، وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو تباہ کر بیٹھے۔ پیشہ ورانہ مہارت ہی اعمتاد دیتی ہے۔کھیل ہویا انڈسٹری، ٹیکنالوجی ہو یا فن کی دنیا…… ہرجگہ ایسے نام ملتے ہیں جن کا تصور کرتے ہی پرفیکشن کی مثال سامنے آ جاتی ہے۔ بل گیٹس سے سٹیفن ہاکنگ اور رونالڈو، میسی سے لارا وسچن ٹنڈولکراور کوہلی سے جوروٹ وغیرہ اوروارن بفٹ سے سٹیون سپیل برگ،میل گبسن اور انجلینا جولی وغیرہ تک کے نام دراصل ان کی قابلیت کا منہ بولتا
ثبوت ہیں۔
نیٹ ورکنگ(K – networking))
ماہرین یہ کہتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں اوپر جانے کے لئے رابطے اور نیٹ ورکنگ بڑی ضروری ہے۔ یہ رابطے اس شعبے کے کامیاب ترین افراد سے بھی ہونے چاہیں کہ ٹاپ پر موجود لوگوں کے پیروی کر کے نہ صرف کامیابی آسان ہوجاتی ہے بلکہ بہت سی غلطیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی مناسب جگہوں پر اچھی ریلشننگ رکھنے والے لوگوں کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اگرچہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو صرف اپنی غیرمعمولی محنت اور جدوجہد کے ذریعے اوپر جاتے ہیں،مگر ریلشننگ یہ سفر آسان کر دیتی ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ریلیشن صرف مفاد اور مادی ضرورتوں کے تابع نہیں ہونے چاہیں۔ کم حیثیت فرد کی بھی اپنی اہمیت ہے اور زندگی کے کسی موڑ پر وہ بھی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ نسبتاً چھوٹے رینک کے ملازمین سے اچھا برتاؤ بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے اور عملی بصیرت کا ثبوت بھی۔
قدرت کے آگے سر جھکا دینا(Y – Yield)
دنیا کی ہر کامیابی کی داستان میں قدرت کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی شخص کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اپنی زندگی کے سفر کی پلاننگ میں سب سے اہم حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے مختص کرنا چاہیے۔ اللہ ہی سے رہنمائی لینی اور اسی کی طرف دیکھنا چاہیے۔انسان چاہے جس قدر اپنی تدبیر پر بھروسہ کرے، ایک وقت آتا ہے جب قدرت کی نادیدہ قوت ہر پلاننگ پر حاوی ہوجاتی ہے۔اس لئے اللہ کی مدد اور رہنمائی طلب کرتے ہوئے آگے چلنا چاہیے۔ آدمی اپنی جانب سے اچھی سی پلاننگ کرے، پوری محنت کرے،جو کچھ بس میں ہے وہ کر گزرے اور پھر سب اللہ پر چھوڑ دے، اس کی جانب سے جو فیصلہ آئے اسے خوش دلی سے قبول کرے۔ ویسے جو شخص اپنی زندگی اللہ کے احکامات اور الہامی قوانین کی پیروی کرتے ہوئے گزار دے، اس سے زیادہ مطمئن اور آسودہ شخص کوئی اور نہیں مل سکتا۔ زندگی کے سفر میں تمام do,sاورdon,tsاللہ کے قوانین کے تابع ہی ہونے چاہیں۔ یہی سرنڈر کا عملی مظاہرہ ہے اور ایسے لوگوں پر کبھی ناکامی زیادہ دیر سایہ نہیں کرتی، کامیابی کے بادل جلد اس جگہ پر سایہ فگن ہو جاتے ہیں۔