دُور کے ڈھول سہانے

آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے یہ ابلی ہوئی چھوٹے دانے والی دیسی گندم اور چنے سے بنی گھنگھنیاں برصغیر کے دیہات اور قصبوں میں عام لوگوں کا ناشتہ ہوا کرتا تھا۔ ابلی ہوئی گندم مٹی کے کونڈے میں بھر کر کھائ جاتی تھی۔ جن کو دودھ میسر تھا وہ دودھ کے ساتھ کھاتے تھے۔یا اس میں زرا سا نمک مرچ اور گھی یا مکھن شامل کرلیا کرتے تھے۔

پنجاب میں ڈیڑھ دو سو سال پہلے صاحب ثروت لوگوں کے لئے پیلو کے پھل رات کو دودھ میں بھگو دئے جاتے تھے اور صبح یہ دودھ میں پھولے ہوئے نرم پیلو کھائے جاتے۔

فوڈ ورائٹی بہت کم تھی۔ کوئ چائے بریڈ انڈے مکھن جام جیلی کا رواج نہ تھا کہ یہ دستیاب ہی نہ تھے۔ مکھن گھی روٹی پر لگا کر یا دال چاولوں میں ڈال کر کھاتے تھے۔ آم کا اچار ۔میٹھے میں آٹے کا حلوہ گڑ کے چاول یا گلگلے ہوتے تھے۔ سفید چینی کا کوئی تصور نہ تھا۔ گڑ اور دیسی شکر چلتی تھی۔ ستو بہت عام تھے۔ دال نمک مرچ کے ساتھ ابال کر کھائی جاتی تھی۔ لوگ اپنے اپنے علاقوں کی فصلوں تک محدود تھے کہ اجناس یا پھل سبزی کو دوردراز علاقوں میں پہنچانے کے لئے ذرائع نقل و حمل نہ تھے۔ کوئی انڈسٹری صنعت یا پراسسڈ فوڈ نہ تھا۔ زرا سوچئے ان وقتوں میں بنئے کی دکان میں کیا ہوتا ہوگا۔ صرف اجناس گڑ شکر دالیں گھی تیل نمک وغیرہ۔

سڑکیں اور ذرائع نقل و حمل نہ ہونے کی وجہ سے لمبے سفر کا کوئی تصور نہ تھا اور لوگ زیادہ سے زیادہ بیس تیس کلومیٹر کے دائروں تک محدود علاقوں میں زندگیاں گزار دیا کرتے تھے اور یہیں سے ذات برادری کا تصور بنا اور شادی بیاہ اپنی برادری تک محدود تھی کہ دوسرے علاقوں تک رسائ ہی نہ تھی۔ سو دوسو میل دور کا علاقہ پردیس کہلاتا تھا۔ چالیس پچاس کلو میٹر کا سفر بھی بیل گاڑیوں پر یا پیدل ایک دو دن میں طے ہوتا تھا۔اور اس راستے میں بھی اکثر جنگل بیابان ہوتا تھا۔

صرف تاجر لوگ قافلوں میں اونٹوں گھوڑوں اور بیل گاڑیوں پر لمبے سفر پر جاتے تھے۔ ہندو مذہب میں ویسے بھی سمندر پار جانا ممنوع تھا۔

ان معاملات میں اگر دیکھئے تو عرب بہت ایڈوانس تھے اور وہ ہزاروں سال پہلے سے انٹرنیشنل تجارت جس کو آج امپورٹ ایکسپورٹ کہتے ہیں کررہے تھے۔ زرا اندازہ کیجئے کہ عرب تاجر آج سے دوہزار سال پہلے بھی چین اور انڈیا تک جایا کرتے تھے۔

عرب تاجر ستو کو گڑ اور پانی میں گوندھ کر بطور غذا کھاتے تھے۔ عام طور پر سفر کے دوران لوگ ستو گڑ ساتھ رکھتے تھے۔ جہاں پانی ملتا ستو شکر گھول کر پی لیا کرتے۔ ہندوستان میں سفری راستوں پر اس زمانے میں دھرم شالائیں ہوتی تھیں جہاں چولہا وغیرہ ہوتا تھا اور مسافر ان میں ٹھہر کر اپنا کھانا پینا کرتے تھے۔ پھل فروٹ بھی عام نہ تھے۔ صرف مقامی دیسی پھل جیسے کہ جنگلی بیر دیسی آم ،جامن گوندنیاں، لہسوڑے وغیرہ۔

اس زمانے میں بھی دیسی گھی عام عوام کو افراط سے نصیب نہ تھا۔ صاحب ثروت لوگ ہی دیسی گھی کھاتے تھے۔ عام لوگ کھانے پکانے میں سرسوں کا تیل استعمال کرتے تھے۔ عام طور پر سبزیوں کو صرف پیاز نمک اور مرچ کے ساتھ ابال کر یا گھی میں بھجیا بنا کر کھایا جاتا تھا۔ مصالحوں کا رواج نہ تھا۔ گندم ہلکی کوالٹی کی ہوتی تھی۔ عام طور پر جو اور گندم کی موٹی موٹی روٹیاں گھڑ لی جاتی تھیں، چاول بھی ان علاقوں میں کھایا جاتا تھا جہاں یہ کاشت ہوتا تھا۔ آلو ٹماٹر اور مکئی بھی عام نہ تھا۔ کیونکہ یہ برصغیر کی روایتی فصلیں نہ تھیں۔ یہ کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد دنیا میں متعارف ہوئیں ان کو پرتگالیوں نے سترھویں صدی میں انڈیا میں متعارف کروایا تھا اور ان کو عام ہونے میں ڈیڑھ دو صدیاں لگیں، یہی وجہ ہے کہ ہم کو کسی بھی مغل کھانے میں ٹماٹر یا آلو کا استعمال نظر نہیں آتا۔ مغلیہ کھانوں میں دہی کا استعمال ہوتا ہے۔ گوشت کو یا تو سینک کر یا پھر نمک مرچ گھی لہسن پیاز کے ساتھ بھون لیا جاتا تھا۔ گرم مسالے عنقا تھے۔ بازاری چکیوں کا رواج نہ تھا۔ گندم جو مکئی سب گھر میں ہاتھ کی چکی سے پیس کر آٹا بنایا جاتا تھا۔

اگر دیکھئے تو آجکل کی ماڈرن ریسرچ اور میڈیکل کے مطابق اس زمانے کے لوگ سخت غذائ قلت کا شکار اور کمزور تھے ، عمدہ و انواع اقسام کے کھانے صرف بڑے شہروں اور بادشاہ و نوابوں راجہ مہاراجہ تک محدود تھے،عام عوام کےکھانے کو بہت کم تھا مگر محنت مشقت بہت زیادہ تھی۔ زراعت کا انحصار بارش ہر تھا۔ یا کنووں سے رہٹ کے ذریعے تھوڑی بہت زمین سیراب کرلی جاتی تھی۔ جس سال بارش نہ ہوتی سوکھا پڑ جاتا تھا، یعنی آئے دن قحط پڑتے تھے۔

احسان مانئے انگریز کا کہ جس نے یہاں آکر دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہم کو بنا کر دیا جس سے لاکھوں ایکڑ زمین سیراب ہوئی اور فصلوں کی بہار آگئ اور پنجاب بریڈ باسکٹ کہلایا۔ گھر کی خواتین سارے کاموں سے فارغ ہو کر گندم پیسنے بیٹھ جاتی تھیں کہ روزانہ دو چار سیر آٹا چاہئے ہوتا تھا۔

آجکل کی زندگی تو لگژری ہے مگر افسوس ہم آج برگر پیزے پاستے نہاریاں کڑاھیاں ڈکار کر بھی شکر نہیں کرتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں