حکومت پاکستان نے اگلے پانچ سالوں میں 24 اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان 24 سرکاری اداروں کی فہرست، جو گزشتہ سال تیار کی گئی تھی، قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے۔ وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کی جانب سے پیش کیے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ، اداروں کی نجکاری کا عمل تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں، جو ایک سال کے اندر مکمل ہوگا، پی آئی اے، روز ویلٹ ہوٹل، فرسٹ وومن بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور زرعی ترقیاتی بینک سمیت 10 اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، اس مرحلے میں آئیسکو سمیت تین ڈسکوز کی بھی نجکاری کی جائے گی۔
عبدالعلیم خان کے تحریری جواب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ، دوسرے مرحلے میں، جو تین سال کے اندر مکمل ہوگا، 13 اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ ان میں اسٹیٹ لائف انشورنس، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور چار جینکوز شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں لیسکو سمیت چھ ڈسکوز کی نجکاری بھی کی جائے گی۔
تیسرے اور آخری مرحلے میں، جو پانچ سال کے اندر مکمل ہوگا، پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کی نجکاری کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ، وفاقی حکومت نے گزشتہ سال بھی پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ اس وقت، قومی ایئر لائن کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے حکومت کو 85 ارب روپے کی امید تھی، لیکن توقع سے انتہائی کم، یعنی صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے نجکاری بورڈ نے ان بولیوں کو مسترد کر دیا تھا۔