شاہ رخ خان کو نیشنل فلم ایوارڈ میرٹ پر دیا گیا

بالآخر وہ دن بھی آ ہی گیا جس کا انتظار شاہ رخ خان کے مداح برسوں سے کر رہے تھے۔ تین دہائیوں سے زیادہ کا طویل اور شاندار سفر طے کرنے کے بعد، بالی ووڈ کے کنگ خان کو بالآخر اُن کے کریئر کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ ملنے جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 71ویں نیشنل فلم ایوارڈ میں شاہ رخ خان کو فلم ’جوان‘ میں شاندار اداکاری پر بہترین اداکار کا اعزاز دیا جائے گا۔ اس ایوارڈ کے ساتھ انہیں ’راجت کمل‘ (Silver Lotus) ٹرافی، ایک اعزازی سرٹیفکیٹ اور دو لاکھ روپے نقد انعام بھی دیا جائے گا۔

یہ لمحہ نہ صرف شاہ رخ خان کے لیے بلکہ اُن کے ہر مداح کے لیے بھی تاریخی ہے۔ تینتیس سالہ فلمی کیریئر میں بے شمار سپرہٹ فلمیں دینے کے باوجود، سرکاری سطح کا یہ سب سے بڑا اعزاز اُن کے حصے میں پہلی بار آ رہا ہے۔ جبکہ ان کے مقابلے انڈسٹری کے دوسرے دو خان عامر خان اور سلمان خان پہلے ہی یہ ایوارڈ جیت چکے ہیں ۔

شاہ رخ خان نے تھیٹر سے شروعات کی، پھر ٹی وی ڈراموں ’فوجی‘ اور ’سرکس‘ میں اپنی پہچان بنائی، اور 1992 میں فلم ’دیوانہ‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ ابتدا میں ’بازیگر‘ اور ’ڈر‘ جیسے منفی کرداروں سے شہرت پائی، مگر پھر ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے انہیں رومان کا بادشاہ بنا دیا۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے ہر صنف میں کمال کیا—چاہے وہ ’چک دے انڈیا‘ جیسی اسپورٹس ڈرامہ ہو یا ’مائی نیم از خان‘ جیسی جذباتی فلم، اور حالیہ برسوں میں ایکشن تھرلرز جیسے ’پٹھان‘ اور ’جوان‘ نے باکس آفس کے ریکارڈز توڑ ڈالے۔

’جوان‘ کی بات کی جائے تو یہ محض ایک ایکشن فلم نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے اداکار کی تخلیقی طاقت کا مظہر تھی جو ہر کردار میں نئی جان ڈال دیتا ہے۔ شاہ رخ خان نے ایک ساتھ دو الگ الگ کردار نبھائے، اور دونوں میں اتنی شدت اور جانداری تھی کہ ناظرین سینما ہال سے باہر آ کر بھی اُس کے سحر میں مبتلا رہے۔ یہی وہ پرفارمنس تھی جس نے جیوری کو قائل کر دیا کہ یہ بہترین کردار ہے۔

ایوارڈ کے اعلان کے بعد شاہ رخ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں وہ ہمیشہ کی طرح خوش مزاج نظر آئے ۔ انہوں نے کہا:
“مجھے قومی ایوارڈ سے نوازنے کے لیے شکریہ۔ میں جیوری، وزارت اطلاعات و نشریات اور حکومت ہند کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اسکرین پر سچ دکھانے کی ذمہ داری۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں پہلے سے بہتر کام کروں گا۔”

ویڈیو میں ایک بات سب کی نظر سے نہ بچ سکی کہ شاہ رخ خان کے بازو میں پٹی بندھی ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بازو کی چوٹ کی وجہ سے وہ اپنا مشہور رومانوی اسٹائل، یعنی بازو پوری طرح پھیلا کر مداحوں کا شکریہ ادا کرنے کا انداز فی الحال نہیں اپنا سکتے۔

حال ہی میں یہ خبر بھی آئی تھی کہ اپنی آنے والی فلم ’کنگ‘ کی شوٹنگ کے دوران وہ شدید زخمی ہوئے، جس کے بعد علاج کے لیے امریکا گئے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ اب روبہ صحت ہیں اور جلد ہی دوبارہ شوٹنگ شروع کرنے والے ہیں۔

جہاں شاہ رخ خان اس سال کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازے جا رہے ہیں، وہیں بہترین اداکار کا یہ ایوارڈ وکرانت میسی کو بھی فلم ’12ویں فیل‘ میں شاندار کارکردگی پر مل رہا ہے، اور بہترین اداکارہ کا نیشنل فلم ایوارڈ رانی مکھرجی کو فلم ’مسز چترویدی ورسز ناروے‘ میں جاندار اداکاری پر دیا جا رہا ہے۔ تینوں فنکاروں کو راجت کمل، سرٹیفکیٹ اور دو لاکھ روپے نقد انعام بھی دیا جائے گا، مگر مداحوں کے لیے سب سے بڑی خوشخبری یہی ہے کہ اُن کے کنگ خان نے آخرکار یہ سرکاری اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں