چین کے صوبہ، گواینڈانگ میں ‘چکن گنیہ’ وائرس کے سات ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں رواں سال جولائی سے اب تک تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مچھر سے پھیلنے والا یہ وائرس خطے میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے بعد چینی حکام نے اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ، فوشان شہر ہے، جبکہ گواینڈانگ کے کم از کم 12 دیگر شہروں میں بھی وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تین ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
اسی دوران ہانگ کانگ میں بھی چکن گنیہ کا ایک کیس سامنے آیا ہے، جب فوشان سے واپس آنے والا 12 سالہ بچہ شدید بخار اور جسم میں درد کی شکایت کے بعد اسپتال لایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ، زیادہ تر مریضوں میں بیماری کی علامات نسبتا ہلکی ہیں اور تقریبا95 فیصد مریض ایک ہفتے کے اندر صحتیاب ہو رہے ہیں۔ تاہم چونکہ یہ وائرس چین میں عام نہیں، اس لیے مقامی آبادی میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
چکن گنیہ وائرس جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کے کچھ حصوں میں عام پایا جاتا ہے، مگر چین میں اس کی وبا غیر معمولی تصور کی جا رہی ہے۔
امریکہ نے چین کا سفر کرنے والے شہریوں کو ’زیادہ احتیاط‘ برتنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ چینی حکام نے مقامی آبادی کو گھروں، گملوں اور دیگر کھلی جگہوں پر پانی کھڑا نہ ہونے دینے کی تاکید کی ہے، تاکہ مچھروں کی افزائش روکی جا سکے۔
احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 10 ہزار چینی یوان تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
چکن گنیہ وائرس براہِ راست ایک انسان سے دوسرے کو منتقل نہیں ہوتا، بلکہ یہ مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے۔ متاثرہ شخص کو مچھر کے کاٹنے کے بعد جب وہی مچھر کسی اور کو کاٹتا ہے تو وائرس منتقل ہو جاتا ہے۔ اس وائرس کی نمایاں علامات میں تیز بخار، جوڑوں میں شدید درد شامل ہیں، اور بعض کیسز میں یہ درد کئی ماہ یا سالوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔