پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے خلاف جاری عالمی مہم سنگین مسائل اور بداعتمادی کا شکار ہو چکی ہے۔ دنیا بھر سے اربوں ڈالر خرچ کیے جانے کے باوجود پولیو کے مکمل خاتمے کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ حالیہ رپورٹس اور مہم میں شامل کارکنوں کے بیانات نے پولیو مہم کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان کی پولیو ورکرسُغرا ایازگزشتہ دس سال سے در در جا کر والدین کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے کے لیے قائل کرتی آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین کی شکایات اور خدشات مختلف ہوتے ہیں,کچھ کہتے ہیں کہ انہیں ویکسین سے پہلے خوراک اور پانی کی ضرورت ہے، جب کہ کچھ غلط معلومات کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ ویکسین بچوں کو بانجھ بنا دیتی ہے۔
سُغرا ایاز کا انکشاف ہے کہ بعض مقامات پر ویکسین بچوں کو پلائے بغیر ہی ان کے ہاتھوں پر جعلی نشانات لگا دیے جاتے ہیں تاکہ ریکارڈ میں انہیں ویکسین شدہ ظاہر کیا جا سکے۔ ان کے مطابق بعض اوقات ویکسین کو مناسب درجہ حرارت میں محفوظ نہیں رکھا جاتا، جس سے اس کی افادیت متاثر ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اس کے شراکت داروں نے 1988 میں پولیو کے خاتمے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان وہ دو ممالک باقی رہ گئے ہیں جہاں پولیو وائرس کی منتقلی کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہو سکا۔
2021 میں صرف 5 کیسز رہ گئے تھے، لیکن 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 99 ہو گئی۔ کئی بار طے کردہ اہداف پورے نہ ہو سکے۔ متعدد رپورٹس کے مطابق مہم میں جعلی رپورٹس، غیر تربیت یافتہ افراد کو بھرتی کرنے، اور مہم کے دوران ٹیموں کے غائب ہونے جیسے مسائل پائے گئے ہیں۔
اے پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہم کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات گاؤں کے بزرگ یا خاندان کے مرد ویکسین کی مخالفت کرتے ہیں، اور خواتین ورکرز کے لیے دروازہ کھولنے کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کچھ علاقوں میں لوگ غربت، بے روزگاری اور دیگر مسائل کی وجہ سے ویکسین پر اعتماد نہیں کرتے۔
عالمی ادارہ صحت کے پولیو ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال احمد نے اے پی کو بتایا ہے کہ ان چیلنجز کے باوجود مہم نے دنیا بھر میں کروڑوں بچوں کو معذوری سے بچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں اگلے 12 سے 18 ماہ میں پولیو کے پھیلاؤ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے، اور پرانے طریقے ترک کر کے نئی حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے۔ ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ زبانی (oral) پولیو ویکسین کے بجائے انجیکشن ویکسین پر جلد از جلد منتقل ہونا چاہیے، کیونکہ زبانی ویکسین میں موجود زندہ وائرس نایاب مگر ممکنہ طور پر خطرناک ضمنی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔