28 سال بعد کوہستان کے گلیشیئر سےمحفوظ حالت میں لاش برآمد

کوہستان کے علاقے پالس میں تقریباً تین دہائیوں سے زیرِ گردش ایک حیرت انگیز داستان اس وقت حقیقت میں بدل گئی جب 28 برس قبل لاپتا ہونے والے گھڑسوار کی لاش گلیشیئر سے مل گئی۔ لاش برف میں دبنے کی وجہ سے محفوظ حالت میں تھی اور اس کے کپڑے، شناختی کارڈ سمیت دیگر اشیاء بھی سلامت رہیں۔

واقعہ کوہستان کے پالس تحصیل کے لیدی گاؤں کے قریب پیش آیا، جہاں ایک مقامی چرواہے نے برف پر ایک مشتبہ شے دیکھی۔ قریب جا کر معلوم ہوا کہ وہ ایک انسانی لاش ہے، جس کے جسم پر واسکٹ اور مکمل لباس موجود تھا۔ تلاشی کے دوران جیب سے شناختی کارڈ ملا جس سے لاش کی شناخت 1997 میں لاپتا ہونے والے نصیرالدین ولد بہرام کے طور پر ہوئی۔

نصیرالدین اس وقت 33 برس کے تھے جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ پہاڑوں کی طرف گئے اور دورانِ سفر ایک گہری کھائی میں گر گئے۔ ابتدائی طور پر کئی دن تلاش کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا اور وہ لاپتا قرار دیے گئے۔ مقامی سطح پر اس مقام کے بارے میں مختلف کہانیاں مشہور ہو گئیں جن میں اسے “خونی برف” اور “خطرناک درہ” قرار دیا جاتا رہا۔

واقعے کے حوالے سے مقامی پولیس و ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لاش کے ساتھ کسی قسم کے تشدد یا دشمنی کے شواہد نہیں ملے، تاہم علاقے میں اس وقت موجود دشمنی کی روایتوں نے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق لاش کے محفوظ رہنے کی اہم وجہ برف کا طویل عرصے تک دباؤ میں رہنا ہے، جس سے نہ صرف بیکٹیریا کی سرگرمی رکی رہی بلکہ کیڑے مکوڑوں کی رسائی بھی ممکن نہ ہو سکی۔

مقامی افراد کے مطابق لیدی گلیشیئر وقت کے ساتھ ساتھ پگھل رہا ہے، جس کے باعث یہ لاش حالیہ دنوں میں ظاہر ہوئی۔ تاہم لاش کے ساتھ موجود گھوڑے کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔

اپنا تبصرہ لکھیں