اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت حماس کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے “متبادل راستوں” پر غور کر رہی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل اور امریکا نے قطر میں جاری مذاکرات سے اپنے وفود کو واپس بلا لیا، جس سے بات چیت کے مستقبل پر غیر یقینی کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے حماس کی حالیہ تجاویز کو ‘غیر سنجیدہ ‘قرار دیا اور کہا کہ امریکا اب متبادل راستے تلاش کرے گا، تاہم اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔
نیتن یاہو نے کہ حماس ہی یرغمالیوں کی رہائی میں رکاوٹ ہے۔ امریکا کے ساتھ مل کر ہم متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں تاکہ اپنے یرغمالیوں کو واپس لایا جا سکے اور اسرائیل میں مستقل امن قائم ہو۔
مذاکرات میں شامل ثالث ممالک مصر اور قطر نے واضح کیا ہے کہ یہ تعطل وقتی ہے اور جلد بات چیت دوبارہ شروع ہو گی، تاہم کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حماس نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کا وفد مشاورت کے لیے واپس گیا ہے اور اگلے ہفتے بات چیت دوبارہ شروع ہو گی۔
اس دوران غزہ میں صورتحال دن بہ دن خراب ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں قحط کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں، جبکہ خوراک کی قلت سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور فوری جنگ بندی کی اپیل کی۔ اردن نے غزہ میں خوراک اور دودھ کے فضائی سامان گرانے کی اجازت مانگی ہے، جس پر اسرائیلی فوج تعاون کر رہی ہے۔
جمعہ کو ایک اسکول پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک 11 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔