پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ، ان کے ملک اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور دونوں ممالک باہمی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی جانب مثبت پیش رفت کر رہے ہیں۔
واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک ‘اٹلانٹک کونسل’ سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ، پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنی معاشی شراکت داری کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور وہ امداد کے بجائے تجارت کو مستقبل کی بنیاد سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ، پاکستان امریکی منڈیوں تک بہتر رسائی کا خواہاں ہے، اسی طرح پاکستان بھی امریکی مصنوعات کو اپنی مقامی مارکیٹ تک بہتر رسائی دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان مذاکرات میں ٹیکسٹائل، ڈیجیٹل تجارت اور زرعی شعبہ بھی شامل ہیں، اور پاکستان جلد از جلد ایک باہمی مفاد پر مبنی تجارتی معاہدہ چاہتا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ، پاکستان معدنیات سے مالا مال ملک ہے، جن میں قیمتی اور نایاب ذخائر بھی شامل ہیں، اور ملک توانائی، کان کنی، ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گا۔ ان کے مطابق، ایک مضبوط تجارتی معاہدہ پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر بن سکتا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے پاکستان، بھارت اور چین-امریکہ تعلقات سمیت افغانستان اور ایران کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔
پاک بھارت تعلقات سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ، پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جو امن کا خواہاں ہے، اور بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے حصول میں امریکہ اور دیگر دوست ممالک نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ، وہ دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے دہشتگردی کا سہارا لیتا ہے اور پاکستان کو بدنام کرتا ہے۔
انہوں نے اپریل میں ہونے والے پہلگام حملے کی مثال دی جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا، تاہم ان کے مطابق، کشیدگی کو کم کرنے میں امریکی سفارتکاری اور صدر ٹرمپ کی ٹیم نے کلیدی کردار ادا کیا۔
چین اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ، پاکستان کسی بلاک کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور چین و امریکہ دونوں کے ساتھ متوازن اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق، چین پاکستان کا سٹریٹجک پارٹنر ہے ،جبکہ امریکہ دیرینہ دوست ہے۔ ماضی میں پاکستان نے ان دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
افغانستان میں امن کو پاکستان کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، وہاں سے دہشتگردی کا خطرہ ایک حقیقی خدشہ ہے، اور یہ پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
ایران-اسرائیل کشیدگی پر اسحاق ڈار نے موقف اپنایا کہ، پاکستان خطے میں سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ایران کے ساتھ امن کے امکانات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔