گزشتہ روز شام، اسرائیل اور دروز اقلیت سے متعلق میری تحریر پر بعض قارئین کی جانب سے یہ تاثر لیا گیا کہ گویا میں دروز فرقے کی حمایت اور شامی حکومت پر تنقید کر رہا ہوں۔ میری نیت محض ایک سیاسی و تاریخی تناظر پیش کرنا تھا، نہ کہ کسی فریق کی وکالت یا حمایت ۔ آج کے کالم میں شام اور اسرائیل میں مقیم دروز برادری کی قومی اور سیاسی حیثیت کا مزید غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا رہاہے، تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی باقی نہ رہے۔
دراصل گولان ہائٹس کا علاقہ 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیلی قبضے میں آیا تھا ۔اس جنگ میں اسرائیل نے نہ صرف گولان ہائٹس پر قبضہ کیا بلکہ مغربی کنارے، غزہ اور جزیرہ نما سینا کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ سنہ 1981 میں اسرائیل نے گولان ہائٹس کو یک طرفہ طور پر اپنی حدود میں شامل کر لیا، تاہم اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری آج بھی اسے شام کا علاقہ تصور کرتی ہے۔
اس خطے میں خاص اقلیتی گروہ، دروز، بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ مذہبی طور پر دروز نہ سنی ہیں نہ شیعہ، بلکہ ان کا عقیدہ ایک صوفی، باطنی مکتبِ فکر سے وابستہ ہے۔ لبنان، شام اور اسرائیل میں دروز برادری کی قابلِ ذکر آبادی موجود ہے، تاہم ان کا سیاسی اور قومی موقف ہر ملک میں مختلف ہے۔گولان ہائٹس میں رہنے والے دروزوں کی اکثریت نے اسرائیلی شہریت لینے سے انکار کر رکھا ہے۔ وہ خود کو شامی شہری ہی تصور کرتے ہیں اور اکثر شامی پرچم کو اپنی شناخت کا نشان مانتے ہیں۔ اسرائیلی ریاست کی جانب سے انہیں مستقل رہائشی کا درجہ دیا گیا ہے، مگر شہری حقوق اور ریاستی شناخت کے حوالے سے ان کی حیثیت اب بھی مبہم ہے۔
تاہم، یہ تصویر مکمل طور پر یکساں نہیں۔ اسرائیل میں موجود بعض دروز شہریوں نے فوج میں خدمات انجام دی ہیں، جن میں بعض اعلیٰ عہدوں تک بھی پہنچے ہیں۔ سنہ 1956 کے بعد اسرائیل نے دروزوں کو لازمی فوجی خدمت کے قانون میں شامل کیا، جو باقی عرب اقلیتوں سے ایک مختلف سلوک تھا ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گولان ہائٹس کے دروزوں پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا، مگر اسرائیلی فوج سے ان کی مکمل لاتعلقی کا تاثر بھی مکمل درست نہیں۔اس برادری کے اندر بھی اس معاملے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ دروز اسرائیلی ریاست کے ساتھ انضمام کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ بعض اسے ایک عملی ضرورت یا موقع تصور کرتے ہیں۔ سنہ 2019 میں جب امریکہ نے گولان ہائٹس پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کیا تو یہ فیصلہ اسرائیل کے لیے ایک بڑی سفارتی فتح تصور کیا گیا، مگر دروز برادری میں اس پر خاموشی اور اضطراب دیکھا گیا۔
حالیہ برسوں میں گولان میں ونڈ ٹربائن منصوبے کے خلاف احتجاج اس اختلاف کی ایک واضح مثال ہے۔ دروزوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ترقیاتی منصوبہ ان کی زمینوں، شناخت اور ثقافتی ورثے کو متاثر کر سکتا ہے۔ احتجاج کے دوران اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جنہیں اسرائیلی حکومت نے ریاست مخالف سرگرمی قرار دیا جبکہ مظاہرین نے اسے اپنے حقوق کا دفاع کہا۔
اسرائیلی سیاست میں دروز برادری کی حیثیت ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ نیشن اسٹیٹ لاء 2018 کے بعد غیر یہودی اقلیتوں کو قومی سطح پر ثانوی حیثیت ملنے کی بحث نے دروزوں سمیت دیگر اقلیتوں میں بےچینی پیدا کی۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ قانون اسرائیلی معاشرے میں اقلیتوں کے لیے مساوات کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔گولان ہائٹس کے دروز، چاہے وہ خود کو شامی کہیں یا اسرائیلی، اس خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور جغرافیائی حقیقتوں میں ایک مستقل کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔ ان کی پوزیشن نہ مکمل طور پر اسرائیل مخالف ہے، نہ پوری طرح وفادار۔ یہی پیچیدگی انہیں اس تنازع میں ایک ایسا فریق بناتی ہے جس کی شناخت وقت کے ساتھ ساتھ سوالیہ نشان بنی رہی ہے۔