اسرائیلی حکام کے مطابق، اسرائیل نے جنوبی شام میں عدم استحکام کے پیش نظر اگلے 48 گھنٹوں کے لیے شامی داخلی سیکیورٹی فورسز کو السویدا ضلع میں محدود داخلے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار نے یہ بات رپورٹرز کو بتائی۔
یہ پیش رفت ایک دن بعد سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ اسرائیلی پالیسی یہ ہوگی کہ ،دمشق کے جنوب میں کسی بھی شامی فوج کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس ہفتے کے آغاز میں اسرائیل نے السویدا اور دارالحکومت دمشق میں فضائی حملے کیے، جن میں وزارت دفاع اور صدارتی محل کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ، یہ مداخلت دروز برادری کے تحفظ اور جنوبی شام کو غیر عسکری علاقہ بنانے کے لیے کی گئی، جہاں پیر کے روز دروز جنگجوؤں اور بدو قبائل کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔
تاہم اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ، یہ حملے محض دروز برادری کی فلاح کے لیے نہیں کیے گئے، بلکہ اس کے پیچھے اسرائیلی حکومت اور دباؤ کا شکار وزیراعظم کے ذاتی اور سیاسی مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب شامی صدر احمد الشراع نے جمعرات کو اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ، اسرائیل شام کو ‘انتشار کے ایک نہ ختم ہونے والے تھیٹر’ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے ملک کی تمام برادریوں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔