جنوبی شام ایک بار پھر خون میں نہا رہا ہے۔ 13 جولائی کو دروز اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کے اغوا سے شروع ہونے والی کشیدگی، اب اسرائیلی فضائی حملوں اور شامی فوجی تنصیبات پر بمباری تک جا پہنچی ہے۔ محض چند دنوں میں 350 سے زائد افراد کی ہلاکت، شامی سرزمین پر اسرائیل کی فوجی موجودگی، اور دروز جنگجوؤں کی بڑھتی سرگرمیوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے مگر انتہائی نازک مرحلے پر لاکھڑا کیا ہے۔
یہ صورت حال صرف شام یا اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی عدم توازن کو جنم دے رہی ہے۔ اس بار معاملہ کسی خارجی قوت کی دراندازی یا روایتی سنی-شیعہ کشمکش کا نہیں بلکہ ایک مذہبی اقلیت “دروز” کی بقا کا ہے۔
اس لڑائی کی اصل پیچیدگی یہ ہے کہ ہر فریق اس میں خود کو “تحفظ دینے والا” اور “قومی مفاد کا نگران” ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل کہتا ہے وہ دروز اقلیت کو “شامی ریاست کے ظلم” سے بچا رہا ہے، جبکہ شامی صدر احمد الشراع دروزوں کو “ریاستی وحدت کا حصہ” کہہ کر اسرائیلی جارحیت کو ایک سامراجی سازش قرار دے رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دروز اقلیت ایک دفعہ پھر دو بڑی طاقتوں کے بیچ پیسنے لگی ہے — ایک طرف اسرائیل، جو جنوبی شام میں غیر عسکری بفرزون قائم کرنے کے بہانے اپنی جغرافیائی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتا ہے، اور دوسری طرف نئی شامی حکومت، جو اسلام پسندوں کے ساتھ جنگ جیتنے کے بعد ملک میں ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے، چاہے وہ کسی اقلیت کا اعتماد ہی کیوں نہ ہو۔
اس سارے تناظر میں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: اس لڑائی کا ممکنہ انجام کیا ہوگا؟
ایک خاموش، عارضی بفرزون کا قیام؟
اسرائیل اگر اپنی فوجی برتری برقرار رکھتا ہے تو جنوبی شام کے بعض علاقوں میں عملی طور پر ایک “غیر عسکری زون” قائم ہو سکتا ہے، جہاں شامی حکومت کا اختیار محض علامتی رہ جائے گا۔ گولان کی پہاڑیوں کے آس پاس اسرائیل ایسی ہی حکمتِ عملی 1980ء کی دہائی میں لبنان میں آزما چکا ہے۔ اس بار وہ دروزوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر کے عالمی برادری کو اپنی عسکری مداخلت کا “انسانی جواز” پیش کر رہا ہے۔
دروزوں کا داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا
دروز قیادت دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے: ایک جانب وہ مذہبی اور سیاسی عمائدین ہیں جو شامی ریاست سے وفاداری کا درس دے رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ نوجوان جنگجو جو دروز علاقوں میں ریاستی اداروں کی موجودگی کو اپنے وقار اور خودمختاری کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ اندرونی تقسیم اگر شدت اختیار کرتی ہے تو دروز معاشرہ مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے، اور شام میں ان کا کردار پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو جائے گا۔
شامی ریاست کی عسکری واپسی
شامی صدر احمد الشراع کی تقریر میں اگرچہ صلح کا لہجہ غالب تھا، لیکن اس کا مفہوم یہی تھا کہ ریاست اپنی رٹ ہر قیمت پر قائم رکھے گی۔ اگر ایران یا روس پسِ پردہ دمشق کو مکمل عسکری حمایت فراہم کرتے ہیں تو شامی حکومت اسرائیل کے خلاف محدود جوابی کارروائی کر سکتی ہے — جیسا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے ذریعے پہلے بھی کرتی رہی ہے۔ اس صورت میں اسرائیل کی براہِ راست فوجی مداخلت ایک نئے “Proxy War” کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
علاقائی قوتوں کی ثالثی سے عارضی سکون
اب تک ترکی، سعودی عرب اور امریکہ اس معاملے میں درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ان کی ثالثی مؤثر ثابت ہوئی تو ممکن ہے کہ اسرائیل اور شام کے درمیان ایک خاموش معاہدہ طے پا جائے جس کے تحت اسرائیل دروز علاقوں میں اپنی کارروائیاں کم کر دے اور شامی ریاست دروز ملیشیاؤں کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرے۔
داعش اور القاعدہ کی دوبارہ سرگرمی؟
بڑا خطرہ اس صورت حال میں یہ ہے کہ اس انتشار سے فائدہ اٹھا کر داعش یا القاعدہ سے منسلک گروہ ایک بار پھر جنوبِ شام میں فعال ہو جائیں۔ اس وقت جب اسرائیل اور شامی حکومت ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں، میدان کسی تیسری قوت کے لیے خالی پڑا ہے۔
شام ایک دہائی سے زائد طویل خانہ جنگی سے نکل کر جس امن کی جانب بڑھ رہا تھا، وہ امن اب ایک بار پھر دروز اقلیت کے گرد گھومتے ایک پیچیدہ تنازع میں الجھ چکا ہے۔ یہ تنازع محض ایک مذہبی اقلیت کے تحفظ کا سوال نہیں رہا بلکہ اب یہ شام کی وحدت اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے توازن کا امتحان بن چکا ہے۔اگر فریقین نے سیاسی دانشمندی سے کام نہ لیا، تو یہ لڑائی صرف دروزوں کی بقا کا نہیں، پورے خطے کی آئندہ سمت کا تعین کر سکتی ہے۔ اور شاید تب، کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ سب صرف ایک تاجر کے اغوا سے شروع ہوا تھا۔