کیک پر جلتی موم بتیوں کی رسم کہاں سے آئی ؟

سالگرہ کی تقریب کے حوالے سے سب سے بنیادی چیز کیک کاٹنا سمجھا جاتا ہے، یہ مگر اتنا سادہ نہیں، اس کے ساتھ کئی اور لوازمات بھی ہیں۔ کیک کاٹنا ہے تو کیک پر جلتی موم بتیاں بھی سجانا ہوں گی، کیک کاٹنے سے پہلے ایک ہی پھونک میں وہ موم بتیاں بجھانا بھی ہوتی ہیں۔ سوال کئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی کہ آخر سالگرہ کیک پر موم بتیاں جلانے کا رواج کہاں سے آیا؟

کہا جاتا ہے کہ سالگرہ منانے کا رواج قدیم مصریوں سے آیا۔ اگرچہ مصری موجودہ دور کی طرح سالگرہ نہیں مناتے تھے، لیکن وہ فرعونوں کی پیدائش کے دن کا جشن مناتے تھے۔ سب سے پرانی سالگرہ کی تقریب کا ذکر تقریباً 3000 قبل مسیح میں ملتا ہے، اور غالباً یہ کسی فرعون کی تاجپوشی کی تقریب تھی، جسے اس لمحے کو ایک "دیوتا کی پیدائش” کے طور پر منایا جاتا تھا۔

لیکن سالگرہ کی جدید رسومات کی بنیاد یونانیوں نے رکھی۔ انہوں نے گول چاند کی شکل کے کیک بنائے اور انہیں چاند کی دیوی آرٹیمس کے حضور نذر کیا، جو شکار کی دیوی بھی مانی جاتی تھیں۔ بعض روایات کے مطابق، یونانی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے کیک پر جلتی موم بتیاں رکھی تھیں تاکہ چاند کی روشنی کی علامت ہو۔ بہت سی قدیم تہذیبوں کی طرح یونانی بھی یہ مانتے تھے کہ موم بتیاں روحانی اہمیت رکھتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کا ماننا ہو کہ جلتی موم بتیاں برے اثرات کو دور رکھ سکتی ہیں۔ اور جب یہ موم بتیاں بجھائی جائیں تو دعائیں دیوتاؤں تک پہنچ جاتی ہیں۔

18ویں صدی تک، جرمنی میں بچوں کی سالگرہ "کنڈرفیسٹ” کے نام سے منائی جاتی تھی، جس میں ایک کیک پر ایک موم بتی رکھی جاتی تھی۔ لیکن 1746 میں ایک واقعہ درج کیا گیا کہ کاؤنٹ لوڈوگ وان زنزینڈورف نے اپنی سالگرہ پر ایک کیک تیار کروایا جس پر ان کی عمر کے مطابق موم بتیاں تھیں۔

سالگرہ کیک پر لگی موم بتیاں ایک ہی سانس میں بجھانا بھی ایک متھ یا توہم پرستی بن چکی ہے، بہت سی تہذیبوں اور ممالک میں یہ سمجھاجاتا ہے کہ اگر ایک ہی پھونک میں تمام موم بتیاں بجھ گئیں تو اس وقت دل میں سوچی گئی وش یا خواہش پوری ہوجائے گی۔

آپ تصور کریں کہ آپ کی سالگرہ کی تقریب میں مہمان میز کے گرد جمع ہوتے ہیں اور مانوس نغمہ گنگناتے ہیں۔ روشنی مدھم ہو جاتی ہے اور کیک پر جلتی موم بتیوں کی روشنی آپ کے چہرے کو چمکا دیتی ہے۔ آپ آنکھیں بند کرتے ہیں، دل میں ایک خواہش کرتے ہیں اور گہرا سانس لیتے ہیں۔ سب کچھ اب صرف ایک پھونک پر منحصر ہے۔ اگر آپ ایک ہی سانس میں تمام موم بتیاں بجھانے میں ناکام ہو گئے، تو آپ کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔

یقیناً ساتویں سالگرہ پر تمام موم بتیاں بجھانا 50ویں سالگرہ کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ اہمیت کم نہیں ہوتی۔ یہ خیال کہ اگر موم بتیاں ایک سانس میں نہ بجھیں تو بدقسمتی ہوگی یا خواہش پوری نہیں ہوگی، ایک پرانی روایت ہے۔ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ اگر تمام موم بتیاں ایک ہی سانس میں بجھا دی جائیں تو دل کی خواہش پوری ہوتی ہے۔ یہ نظریہ کئی ثقافتوں کے امتزاج سے ابھرا، اور اس کی ابتدا بھی قدیم مصریوں سے ہوئی۔
یہ بالکل معلوم نہیں کہ ہم نے کب سے یہ ماننا شروع کیا کہ تمام موم بتیاں ایک ہی سانس میں بجھانا خوش نصیبی کی علامت ہے، لیکن یہ روایت آج بھی موجود ہے۔ اگر تمام موم بتیاں ایک ہی پھونک میں بجھ جائیں، تو کہا جاتا ہے کہ انسان کی دعا یا خواہش پوری ہو جاتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں