اسرائیل -حماس مذاکرات کے 8 دور مکمل، کیا یہ مذاکرات ناکام ہونے والے ہیں؟

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ، قطر میں جاری اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی سے متعلق مذاکرات کی کامیابی تقریبا ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے،بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر فلسطینی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دانستہ طور پر ان مذاکرات کو تعطل کا شکار کیا، تاکہ وہ اپنے امریکہ کے دورے کے لیے وقت حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ،جو اسرائیلی وفد دوحہ بھیجا گیا ہے، وہ متنازع امور پر کسی بھی فیصلے کا اختیار نہیں رکھتا۔

مذاکرات میں جن بنیادی نکات پر بات ہو رہی ہے، ان میں غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی اور انسانی امداد کی تقسیم شامل ہیں۔ اگرچہ نیتن یاہو نے امریکہ سے واپسی پر مثبت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ، وہ چند دنوں میں معاہدے کی امید رکھتے ہیں، لیکن فلسطینی حکام اس دعوے کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔

نیتن یاہو کے مطابق، مجوزہ معاہدے کے تحت حماس 20 زندہ یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کرے گی جبکہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران 30 مردہ یرغمالیوں میں سے بھی نصف سے زائد کی لاشیں واپس کی جائیں گی۔

دوحہ میں اتوار سے جاری ان مذاکرات کے آٹھ ادوار مکمل ہو چکے ہیں، جن میں اسرائیلی اور حماس کے وفود الگ الگ مقامات پر موجود رہے۔ ان بات چیت میں قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی، مصری انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسران اور امریکی ایلچی بریٹ میک گرک نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ متعدد زبانی اور تحریری پیغامات دونوں فریقین کے درمیان منتقل کیے گئے، جن میں سیکیورٹی، فوجی اور سیاسی امور زیرِ بحث رہے۔

تاہم فلسطینی حکام کے مطابق، مذاکرات اس وقت ناکامی کے دہانے پر ہیں، کیونکہ فریقین کے درمیان بنیادی نکات پر ابھی تک اتفاق نہیں ہو سکا۔ مذاکرات میں بنیادی توجہ دو امور پر مرکوز رہی: غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کا طریقہ اور اسرائیلی افواج کی واپسی کی حدود۔

حماس کا موقف ہے کہ، امداد اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے تقسیم کی جائے، جبکہ اسرائیل ایک متنازع میکنزم یعنی “غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن” کے ذریعے امداد کی تقسیم پر زور دے رہا ہے۔ اگرچہ اس مسئلے پر کچھ معمولی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پایا۔

دوسری اہم رکاوٹ اسرائیلی انخلا کی حد ہے۔ مذاکرات کے پانچویں دور میں اسرائیلی وفد نے تحریری طور پر ثالثوں کو آگاہ کیا کہ، اسرائیل غزہ میں ایک محدود “بفر زون” رکھے گا جو ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کے درمیان ہوگا۔ تاہم، جب حماس نے اس تجویز کا نقشہ طلب کیا تو اس میں بفر زون تین کلومیٹر تک دکھایا گیا اور اسرائیلی فوج کی وسیع تر موجودگی سامنے آئی، جو ابتدائی دعوے سے کہیں زیادہ تھی۔ حماس نے اسے “بدنیتی پر مبنی چال” قرار دیا، جس سے اعتماد مزید مجروح ہوا۔

فلسطینی حکام کا مؤقف ہے کہ، اسرائیل ان مذاکرات میں سنجیدہ ہی نہیں ہے اور محض وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے، جس سے موجودہ مذاکراتی عمل کی کامیابی کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں