پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر،کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز سکس کے اتحاد کمرشل ایریا میں واقع ایک فلیٹ سے پاکستانی ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ملی ہے، جس کا ابتدائی پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں مکمل کر لیا گیا ہے۔
تاہم، ابتدائی رپورٹ میں فوری طور پر موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ پولیس کے مطابق، 32 سالہ حمیرا اصغر کی لاش اس وقت برآمد ہوئی جب گزری پولیس ایک عدالتی حکم کی تعمیل میں فلیٹ خالی کروانے پہنچی۔ پولیس نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب نہ ملنے پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی، جہاں لاش ملی۔
ڈی آئی جی جنوبی، اسد رضا اور ایس ایس پی جنوبی، محظور علی کے مطابق، اداکارہ اس فلیٹ میں اکیلی رہتی تھیں اور انہوں نے 2024 سے کرایہ دینا بند کر دیا تھا، جس کے باعث مالک مکان نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ پولیس کے مطابق، حمیرا اصغر فلیٹ میں کرائے پر مقیم تھیں اور تنہا زندگی گزار رہی تھیں۔
پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن، ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق، اداکارہ کی لاش انتہائی مسخ شدہ اور ڈی کمپوز ہونے کے ایڈوانس اسٹیج پر تھی، اس لیے فوری طور پر موت کی وجہ بتانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، ابتدائی معائنے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔کیمیکل ایگزیمن اور ڈی این اے تجزیے کے لیے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں، جن کی رپورٹس کے بعد ممکنہ ڈرگز کے استعمال یا موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔
پولیس ذرائع کے مطابق، متوفیہ کے کچھ جسمانی اعضا کو فرانزک تجزیے کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ بظاہر یہ واقعہ قتل محسوس نہیں ہوتا، تاہم پولیس تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔
اداکارہ حمیرا اصغر کئی مشہور ڈراموں جیسے “احسان فراموش” اور “گرو” میں کام کر چکی تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی خاصی متحرک تھیں۔
پولیس نے ان کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا، اور مؤقف اختیار کیا کہ، انہوں نے کچھ عرصہ قبل حمیرا سے تمام تعلقات ختم کر لیے تھے۔ واقعے کی مزید چھان بین کے لیے پولیس موبائل فون ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور قریبی رہائشیوں سے معلومات حاصل کر رہی ہے۔