سندھ حکومت کی جانب سے شہر کی 51 انتہائی خستہ حال عمارتوں کو مسمار کرنے کے اعلان کے بعد صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا ہے کہ، حکومت تمام متاثرہ مکینوں کو متبادل رہائش فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، حکومت پر اس حوالے سے کوئی قانونی ذمہ داری بھی عائد نہیں ہوتی۔
گزشتہ جمعہ کو کراچی کے علاقے لیاری میں واقع فدا حسین شیخا روڈ پر پانچ منزلہ عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جب کہ دیگر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے مطابق، یہ عمارت پہلے ہی ناقابل رہائش قرار دی جا چکی تھی اور 2023 سے مکینوں کو بارہا نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
شرجیل میمن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ، سندھ بھر میں 740 خستہ حال عمارتیں موجود ہیں جن میں 51 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے 11 کو خالی کروا لیا گیا ہے، جب کہ بقیہ عمارتوں کو آئندہ 48 گھنٹوں میں خالی کرانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ، اگرچہ ماضی میں سیلاب اور کورونا جیسی ہنگامی صورتحال میں حکومت نے عارضی رہائش فراہم کی تھی، اس بار بھی جہاں ممکن ہو، محدود سہولتیں فراہم کی جائیں گی، لیکن وہ صرف اُن افراد کے لیے ہوں گی جن کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہ ہو۔
یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب سندھ حکومت نے عمارت گرنے کے واقعے پر ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اسحاق کھوکھر کو معطل کر دیا ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں، جن میں تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) اور جماعت اسلامی شامل ہیں، نے واقعے کو صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف غیر ارادی قتل کے مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد اور متبادل رہائش کی فراہمی پر بھی زور دیا ہے۔