انسانی امداد کے لیے امریکی فنڈنگ میں کٹوتیوں سے 1 کروڑ 40 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

طبی جریدے ‘دی لانسیٹ’ میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق میں ایک سنگین خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ، اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی انسانی امداد کے لیے امریکی فنڈنگ میں کی گئی کٹوتیاں برقرار رہیں، تو اس کے نتیجے میں 2030 تک دنیا بھر میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد اضافی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ، ان قبل از وقت اموات کا سب سے بڑا خطرہ بچوں کو ہوگا، خصوصا پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو، جن کی متوقع تعداد 45 لاکھ سے زائد ہے ، یعنی ہر سال تقریبا سات لاکھ بچوں کی جان جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ، صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے 80 فیصد سے زیادہ پروگرام بند کر دیے ہیں۔

لانسیٹ رپورٹ کے شریک مصنف اور بارسلونا انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ سے وابستہ محقق، ڈیوڈ رسیلا کا کہنا ہے کہ، یہ کٹوتیاں دنیا کے ان کم یا درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے کسی وبائی آفت جیسا اثر ڈال سکتی ہیں، جہاں امریکی امداد کی بنیاد پر صحت کا نظام کئی دہائیوں سے بہتری کی جانب گامزن تھا۔

رسیلا نے متنبہ کیا کہ، امریکی فنڈز میں کمی سے خطرے سے دوچار آبادیوں میں جاری طبی پیش رفت اچانک رک سکتی ہے، جس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔
تحقیق میں 133 ترقی پذیر ممالک کا جائزہ لیا گیا، اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ،2001 سے 2021 تک یو ایس ایڈ کے تعاون سے ان ممالک میں تقریبا9 کروڑ افراد کی جانیں بچائی گئیں۔ تاہم فنڈنگ میں کمی کا موجودہ رجحان اگر جاری رہا تو 2030 تک بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے، جس کی روک تھام نہ صرف ممکن ہے، بلکہ ناگزیر بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں