پاکستان کو اقوام متحدہ کے صنعتی ترقیاتی بورڈ (UNIDO) کے 53ویں اجلاس کی صدارت کا موقع مل گیا ہے، جو کہ عالمی سفارتی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، کامران اختر نے اجلاس کی صدارت کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
ڈان نیوز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کو یونیڈو بورڈ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تقرری اقوام متحدہ میں پاکستان کے متحرک کردار اور عالمی برادری کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کی طرح یونیڈو میں بھی پاکستان ایک فعال رکن کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ رواں برس پاکستان، یونیڈو کے ساتھ مل کر کنٹری پارٹنرشپ پروگرام کے تحت متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صنعتی ترقی اور پائیدار اہداف کے حصول کے لیے پاکستان یونیڈو کے پلیٹ فارم کو موثر انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ جون 2025 میں پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1988 کمیٹی — جو طالبان پر عائد پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے — کا چیئرمین اور انسداد دہشتگردی کمیٹی کا نائب چیئرمین بھی نامزد کیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں، پاکستان کو سلامتی کونسل کے دو دیگر غیر رسمی ورکنگ گروپس، یعنی دستاویزات سے متعلق گروپ (IWG) اور نئے قائم شدہ پابندیوں سے متعلق گروپ کا شریک چیئرمین بھی مقرر کیا گیا ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق ان تقرریوں سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفارتی کردار کو مزید تقویت ملے گی، تاہم ان ذمہ داریوں کے ساتھ عالمی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں کہ پاکستان ان کرداروں میں توازن، شفافیت اور بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھے گا۔