ٹرمپ اور آرمی چیف کی ملاقات امریکا-پاکستان تعلقات کی 78 سالہ تاریخ میں اہم موڑ ہے، وزیر دفاع پاکستان

پاکستان کے وزیر دفاع، خواجہ آصف نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کو پاک-امریکہ تعلقات میں ایک ‘سنگ میل’ قرار دیا ہے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہا کہ، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی امریکی صدر نے پاکستانی آرمی چیف کو اس انداز میں دعوت دی اور ملاقات کی، جو ایک تاریخی لمحہ ہے۔

خواجہ آصف نے لکھا کہ، یہ ملاقات نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، بلکہ اس میں زیر بحث آنے والے علاقائی اور عالمی امور اس بات کا ثبوت ہیں کہ، پاکستان مسائل کے حل میں ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد فریق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو عالمی سطح پر دوبارہ توجہ حاصل ہوئی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ وزیرِ دفاع نے اس کامیابی کو پاکستان کے موجودہ ‘ہائبرڈ گورننس ماڈل’ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ، وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کے درمیان ہم آہنگی کی وجہ سے معیشت کی بہتری، بھارت کو سفارتی میدان میں پسپائی، اور امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات جیسے انقلابی اقدامات ممکن ہوئے۔

واضح رہے کہ، بدھ کے روز امریکی صدر ٹرمپ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا۔ اس ملاقات میں میڈیا کو رسائی حاصل نہیں تھی۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ، انہوں نے جنرل عاصم منیر کو اس لیے مدعو کیا، تاکہ ان کا شکریہ ادا کر سکیں، کیونکہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے جنرل منیر کی ایران اور اسرائیل کی صورتحال پر بصیرت کو بھی سراہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ، مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک بھی شریک تھے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ، جنرل منیر ایران کو گہرائی سے جانتے ہیں اور موجودہ صورتحال پر ان کے خیالات سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ، جنرل منیر ایران اور اسرائیل دونوں سے واقف ہیں، مگر ایران کی پالیسیوں اور خطے میں اس کے کردار سے متعلق ان کی بصیرت خاصی گہری ہے۔

یاد رہے کہ، جنرل عاصم منیر 14 جون سے امریکہ کے دورے پر ہیں اور ان کی یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں