مشرق وسطی میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (میمري) نے ایک ایسے وقت میں جب ایران پر اسرائیلی حملے جاری ہے، بلوچ علیحدگی پسند رہنما میر یار بلوچ کو “بلوچستان سٹڈیز پراجیکٹ” کے لیے نہ صرف مشیر مقرر کیا ہے بلکہ پاکستان کے خلاف سخت لفظوں پر مشتمل ایک مضمون بھی لکھا ہے۔
“میمري” نامی یہ ادارہ سال ۱۹۹۸ سے عزرائیلی بیانیے کے پرچارک کا کردار ادا کر رہا ہے۔ میر یار بلوچ کی تقرری ایک ایسے موقع پر کی گئی جب اسرائیل پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران پر حملہ آور ہے اور اب تک ایران کے کئی اہم جوہری تنصیبات سمیت مرکزی فوجی قیادت کو نشانہ بنا چکا ہے۔
یہ ادارہ خود کو امریکی غیر منافع بخش “پریس مانیٹرنگ آرگنائزیشن” کہتا ہے۔گوگل پر دستیاب معلومات کے مطابق اس ادارے کو موساد کے ایک سابق افسر یگال کیرمان اور ایک عزرائیلی سیاسی سائنسدان میراؤ ورمسر چلا رہے ہیں۔ ان صاحبان نے ہی مذکورہ سال میں اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔
میمري نے میر یار بلوچ سے منسلک اعلان کے ساتھ ہی لکھے مضمون میں یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ بلوچستان نے پاکستان سے تقریبا راہیں جدا کرلی ہیں۔ حتی، ایران کے خلاف بھی بلوچ عوام کو لڑ مرنے کے لیے تیار دکھایا گیا ہے۔
بھارت میر یار بلوچ کی کھلے لفظوں نہ صرف حمایت کا اعلان کرتا ہے بلکہ وہ وقتا فوقتا مودی کو “انتہائی محترم” مخاطب کر کے مدد بھی طلب کرتا ہیں۔