ایف اے ٹی ایف اجلاس ، پاکستان گرے لسٹ میں واپسی سے محفوظ ، سفارتی کوششیں کامیاب

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں دوبارہ شامل نہ کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، جو اسلام آباد کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔

باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق، بھارت نے پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالنے کے لیے کوششیں کیں، تاہم FATF نے پاکستان کو مکمل طور پر گرے لسٹ میں شامل کرنے کی بجائے رپورٹنگ کی نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو پاکستان کی جانب سے کی گئی انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کی بین الاقوامی سطح پر جزوی طور پر تسلیم شدہ پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں چین نے پاکستان کی مؤثر حمایت کی، جبکہ ترکی اور جاپان سمیت دیگر چند ممالک نے بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کی۔ ان ممالک نے اس بات کو سراہا کہ پاکستان نے گذشتہ برسوں میں FATF کی تکنیکی سفارشات پر خاطر خواہ عمل درآمد کیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ FATF کے ساتھ مسلسل تعاون، داخلی اصلاحات اور فالو اپ میکانزم کو مضبوط بنانے کی کوششوں نے عالمی برادری میں اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

دوسری جانب، خطے کی صورتِ حال اور بعض ممالک کی طرف سے سفارتی سطح پر پاکستان کے خلاف چلائی گئی مہمات بھی اس اجلاس کے تناظر میں زیربحث رہیں۔ تاہم، بیشتر رکن ممالک نے معاملے کو تکنیکی بنیادوں پر پرکھنے کو ترجیح دی اور سیاسی اثرات سے بالا تر رہنے کا عندیہ دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی اور سفارتی تعلقات پیچیدہ صورت اختیار کر چکے ہیں، اور FATF جیسے عالمی فورمز پر تکنیکی اہلیت اور اعتماد کی بحالی قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ FATF کی رہنمائی میں مکمل عمل درآمد جاری رکھے تاکہ مستقبل میں نہ صرف گرے لسٹ سے مکمل طور پر دور رہے، بلکہ مالیاتی شفافیت کے عالمی معیار پر پورا اترنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں