گزشتہ روز احمد آباد، بھارت میں طیارے کا خوفناک حادثہ ہوا جس میں دو سو سے زیادہ جانیں چلی گئیں۔ یہ طیارہ ٹیک آف کرتے ہی گر گیا۔ ایسے حادثے نہایت افسوسناک ہیں اور ان میں بچنے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔
اس قسم کے تباہ کن حادثات سے قطع نظر ہوائی جہاز کی انڈسٹری سے متعلق ماہرین اس بارے میں تجاویز اور ٹپس دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض آپ سے شیئر کررہے ہیں۔
ہوائی جہاز کے سفر کی انفرادیت
ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہوئے، آپ خود کو ایک ایسے آلے میں بندھتا ہوا پاتے ہیں جو کئی ملین حصوں سے بنا ہے۔ ایسے وقت میں جب آپ ہوائی جہاز کی پرواز کے دوران پریشانی محسوس کرتے ہیں اور اس کی لچکدار پنکھوں کو دیکھتے ہیں جو بادلوں میں اس کے ہمراہ مڑتے ہیں، آپ کو یقیناً اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔
حقیقت میں کمرشل فلائنگ یعنی مسافر جہازوں میں سفر ایک انتہائی محفوظ طریقہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، مسافر ہوائی جہاز میں سفر کرنا ایک ایسی چیز ہے جو شاید ہر قسم کے سفر میں سب سے زیادہ محفوظ ہے۔
تجارتی ہوابازی کی حفاظت کی شرح کی ترقی
ہوائی جہازوں کی پرواز کے دوران موت کے تناسب میں گزشتہ دو دہائیوں میں بے پناہ کمی آئی ہے۔ 2022 میں 70 ملین پروازوں کے دوران 5 ارب سے زیادہ مسافروں کی آمد کے باوجود، صرف 174 افراد کی موت ہوئی۔ مزید برآں، اگر آپ یورپ، چین، امریکہ، جاپان، کینیڈا، اسرائیل، یا نیوزی لینڈ میں رہتے ہیں تو آپ کو اس بات کا امکان 30 گنا کم ہوتا ہے کہ آپ کسی ہوائی جہاز کے حادثے میں مارے جائیں گے۔
پھر بھی، ہوائی سفر میں حادثات ہوتے ہیں۔ تو اگر کبھی آپ خود کو کسی ایسے حادثے میں پاتے ہیں، تو سب سے محفوظ سیٹ کہاں ہے جو آپ کو بچا سکتی ہے؟
سب سے محفوظ سیٹ کہاں ہے؟
جب آپ کسی مسافر ہوائی جہاز میں بیٹھتے ہیں تو سب سے محفوظ سیٹ وہ ہے جو آپ کے پیچھے یعنی طیارے کے پچھلے حصے میں ہو۔ یہ تحقیقاتی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ پیچھے بیٹھے مسافروں کے حادثے میں بچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ پچھلے حصے میں، آپ کے راستے میں کم چیزیں آتی ہیں جو آپ کو زخمی کر سکتی ہیں، اور یہاں ایمرجنسی ایگزٹ بھی آپ کے قریب ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ، کچھ تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آپ ہوائی جہاز کے پچھلے حصے میں بیچ کی سیٹ پر بیٹھیں تو آپ کے بچنے کے امکانات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ویسے ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ اس سب سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ جب کوئی ہوائی حادثہ ہو تو وہ ایسا خوفناک ہوتا ہے کہ سب اندازے اور تجزیے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔