سٹاک مارکیٹ؛ دولت مندوں کا کلب

خبرآئی ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بجٹ کے بعد تیزی آئی ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ انڈیکس میں سولہ سو پچاس پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے ۔اب زرا ایمان سے بتائیے گا کہ پاکستان کے کتنے لوگ “انڈیکس” اور “پوائنٹس”کے بارے میں جانتے ہیں ؟

ممکن ہے یہ تحریر پڑھنے والوں کی اکثریت بھی ان کے معنی و مفہوم سے نا آشنا ہو ۔دراصل پاکستان میں اسٹاک ایکسچینج کی حیثیت ایک کلب کی طرح ہے ،جس کی ممبر شپ صرف خواص حاصل کرسکتے ہیں ۔اعداد و شمار کے مطابق ان “خواص” کی تعداد تین سے چار لاکھ کے درمیان ہے ۔یہ چند خاندان ہیں،ان میں چند بینک شامل ہیں، چند مالیاتی ادارے جو اس دھندے کی سرپرستی فرماتے ہیں اور باقی دو اڑھائی لاکھ ٹریڈرز پر مشتمل یہ “کلب” ہے جس میں یہ خود خریدتے اور خود ہی بیچتے ہیں،منافع کم ہونے پر شور کرتے ہیں اور زیادہ ہونے پر اپنی جھولیاں بھرتے ہیں۔

اس سارے کھیل میں میری اور آپ کی کوئی جگہ یا حیثیت نہیں ہے ۔یعنی ملک میں اگر لاکھوں لوگ غربت میں دھنس رہے ہوں تو اسٹاک مارکیٹ تب بھی اوپر جا سکتی ہے۔محلے کے تندور پر بکنے والی روٹی کی قیمت یا رکشے کے کرائے پر مارکیٹ کے اوپر جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں بدستور نئی”ایڈجسٹمنٹ” کے نوٹس جاری کر رہی ہیں ۔دودھ دہی بدستور مہنگے ہیں ،نوکریوں کی تلاش میں نوجوانوں کی عمریں نکلی جا رہی ہیں ۔غریبوں کی لاکھوں بیٹیاں جہیز نہ ہونے سے بوڑھی ہوتی جا رہی ہیں ایسے میں زرا مجھے بتایئے ،ان سارے حالات کا سامنا کرنے والے غریب افراد کو سٹاک مارکیٹ کے اوپر جانے سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ؟ اسے کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ مسکراؤ انڈیکس میں سولہ سو پچاس پوائنٹس کا اضافہ ہو گیا ہے ۔

سٹاک مارکیٹ کلب کے یہ چار لاکھ ممبران ملکی آبادی کا 0.2% ہیں اور ملکی دولت کا 85% کنٹرول کررہے ہیں ،اگر ان کی تجوریاں بھر رہی ہوں، تو مارکیٹ کو “اعتماد” مل جاتا ہے اور اگر کسی روز انہیں منافع حاصل نہ ہوسکے تو قرار دے دیا جاتا ہے کہ سرمایہ کار ڈوب گئے ہیں ۔ان سے کوئی پوچھے کہ یہ ایک بازار ہے تم اس میں مختلف کمپنیوں کے شئیرز خریدتے اور بیچتے ہو یعنی یہ ایک تجارت ہے ، تجارت میں نفع بھی ہوتا ہے اور نقصان بھی ۔

مگر یہ کیسا ستم ہے کہ منافع پر تم اور حکمران خوش ہوتے ہو جبکہ جس روز منافع حاصل نہ کر سکو اس دن گریہ زاری پر اتر آتے ہو ۔ویسے یہ کیسا عجیب پہلو ہے کہ جب اسٹاک مارکیٹ گرتی ہے تو حکومت گھبرا جاتی ہے، ایسا کیوں ہے کہ ان سرمایہ کاروں کا خسارہ “قومی مسئلہ” بن جاتا ہے، لیکن غریبوں اور محنت کشوں کا استحصال “نجی معاملہ” رہتا ہے؟ مکرر عرض کئے دیتا ہوں یہ سٹاک مارکیٹ سیٹھوں کا کلب ہے جس سے میرا اور آپ کا کوئی واسطہ نہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں