استنبول مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں روس پر مزید پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں؟

یوکرین کے صدر، ولادیمیر زیلنسکی نے ترکی کے شہر،استنبول میں جاری روس-یوکرین مذاکرات کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ، ان کا ملک امن کے قیام کے لیے درکار تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ، جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور روس کے زیر قبضہ مغوی بچوں کی واپسی جیسے اقدامات امن کی جانب ابتدائی اور اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

زیلنسکی نے خبردار کیا کہ، اگر استنبول میں جاری مذاکرات کے نتیجے میں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ، روس پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ، اس حوالے سے یورپی یونین اور امریکہ کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے چاہییں۔

یوکرینی صدر نے خاص طور پر امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ، انہوں نے روس کے خلاف سخت پابندیوں کا وعدہ کیا ہے، اور ایسے میں روس کی توانائی اور سماجی شعبے کو پابندیوں کا نشانہ بنانا ایک مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں