دودھ پیتے بچوں کو گانا سنانا ان کے موڈ کو بہتر بناتا ہے

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کو گانا سنانا ان کی ذہنی صحت کو فروغ دینے کا ایک آسان، مؤثر اور محفوظ طریقہ ہے۔

ییل یونیورسٹی کی ایک تازہ تحقیق، جو تین دن قبل 28 مئی کو Child Development جریدے میں شائع ہوئی، میں بتایا گیا ہے کہ شیر خوار بچوں کو گانا سنانا ان کے موڈ کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ تحقیق سینکڑوں والدین اور ان کے بچوں پر کی گئی، جن میں زیادہ تر بچے چار ماہ سے کم عمر کے تھے۔

محققین نے والدین کو دو گروپوں میں تقسیم کیا، ایک گروپ کو نئے گانے سکھا کر، کراؤکی طرز کے تعلیمی ویڈیوز اور بچوں کے لئے موزوں گانوں کی کتابیں فراہم کرکے، اور ہفتہ وار نیوز لیٹرز کے ذریعے روزمرہ زندگی میں موسیقی کو شامل کرنے کے طریقے بتا کر گانا سنانے کی تعداد بڑھانے کی ترغیب دی گئی۔

چالیس دن تک، والدین کو دن کے مختلف اوقات میں موبائل فون پر سوالنامے بھیجے گئے جن میں بچوں کے موڈ، چڑچڑاپن، سکون دلانے کے وقت، والدین کے موڈ، اور موسیقی کے استعمال کی فریکوئنسی کے بارے میں سوالات شامل تھے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ والدین نے بچوں کو گانا سنانے کا وقت بڑھا دیا، خاص طور پر جب بچے چڑچڑے ہوتے تو موسیقی کا استعمال کر کے انہیں سکون دینے کا انتخاب کیا۔

ییل چائلڈ اسٹڈی سینٹر کی پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر اور تحقیق کی شریک مصنفہ ایون چو نے کہا، “گانا سنانا ایسا عمل ہے جو ہر کوئی کر سکتا ہے، اور زیادہ تر خاندان یہ پہلے ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم نے دکھایا ہے کہ یہ سادہ عمل بچوں کی صحت کے لئے حقیقی فوائد کا باعث بن سکتا ہے۔”

یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کی نفسیات کی پی ایچ ڈی طالبہ اور شریک مصنفہ لیڈیا یورڈم نے مزید کہا، “ہمیشہ مہنگے اور پیچیدہ طریقہ کار کی ضرورت نہیں ہوتی، جب اتنے آسان اور مؤثر طریقے موجود ہوں جنہیں اپنانا بھی آسان ہو۔”

حیرت انگیز طور پر، سوالناموں کے جوابات سے ظاہر ہوا کہ گانا سنانے میں اضافے سے بچوں کے موڈ میں مجموعی طور پر قابلِ قدر بہتری آئی۔ اہم پہلو یہ تھا کہ یہ بہتری صرف موسیقی کے فوری اثر کے طور پر نہیں بلکہ مستقل طور پر موڈ میں بہتری کے طور پر سامنے آئی۔

یہ تحقیق اس امر کی حمایت کرتی ہے کہ گانا سنانا نہ صرف ایک سادہ اور فطری عمل ہے بلکہ شیر خوار بچوں کی ذہنی فلاح و بہبود کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی بھی ہے، جس سے پورے خاندان کی صحت و خوشحالی کو فروغ ملتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں