پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اپنی سرحدوں پر فوجی تناؤ میں کمی کے لیے آمادہ نظر آتے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بتایا کہ، دونوں ممالک سرحد پر فوجیوں کی تعداد کو اس سطح پر واپس لانے پر تقریبا تیار ہیں جو رواں برس اپریل میں شروع ہونے والی کشیدگی سے قبل تھی۔
واضح رہے کہ، حالیہ کشیدگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب اپریل میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے کے نتیجے میں کم از کم 26 بھارتی سیاح ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد چھ مئی کی رات بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں پاکستانی حکام کے مطابق، متعدد عام شہری جاں بحق ہوئے۔ بھارت کا مؤقف تھا کہ، اس نے یہ حملے پاکستان میں موجود مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر کیے۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور چار روز تک دونوں جانب سے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم امریکی صدر کی مداخلت سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔
سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ فورم میں شرکت کے دوران جنرل ساحر شمشاد مرزا نے روئٹرز کو بتایا کہ، ہم تقریبا22 اپریل سے پہلے والی صورتحال میں واپس آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، دونوں افواج نے سرحد پر تعینات دستوں میں کمی کا عمل شروع کر دیا ہے، اگرچہ بھارت کی وزارت دفاع یا چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
جنرل مرزا نے اس کشیدہ صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ، اس بار کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا، لیکن جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان کسی بھی اسٹریٹجک غلطی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بحران کے وقت ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ، اس بار تنازعہ صرف کشمیر تک محدود نہیں رہا، جس کے باعث مستقبل میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اگرچہ دونوں طرف سے حریف ملک میں اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے، لیکن کسی فریق نے کسی بڑے نقصان کا اعتراف نہیں کیا۔ اس کے باوجود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خبردار کیا تھا کہ، اگر دوبارہ حملہ ہوا تو وہ پاکستان میں موجود مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔
جنرل مرزا نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ، آئندہ کسی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں بین الاقوامی ثالثی مشکل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، آئندہ کسی بحران میں بین الاقوامی برادری کے پاس مداخلت کرنے کے لیے وقت بہت کم ہوگا، اور ممکنہ طور پر مداخلت سے پہلے ہی کافی نقصان ہو چکا ہوگا۔
انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ، پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس وقت صرف ڈی جی ایم اوز اور سرحدی سطح پر چند ٹیکٹیکل ہاٹ لائنز کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ یا غیر رسمی رابطہ موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، نہ تو پس پردہ کوئی بات چیت جاری ہے اور نہ ہی ان کا سنگاپور میں موجود بھارتی فوجی حکام سے ملاقات کا کوئی ارادہ ہے۔
دوسری جانب بھارت کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ،مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے.