سندھ: کچے کے علاقے میں 15 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے، پی ڈی ایم اے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہرکراچی میں تیسرے روز بھی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، حالیہ بارشوں کے دوران سب سے زیادہ 143 ملی میٹر بارش سرجانی ٹاؤن میں، جبکہ سب سے کم 38 ملی میٹر جناح ٹرمینل پر ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کے مطابق، بارشوں کا یہ سسٹم سندھ سے نکل کر بلوچستان کے علاقوں اوڑماڑہ اور پسنی میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب تھڈو ڈیم سے آنے والے پانی کے باعث سعدی ٹاؤن، شہباز گوٹھ، لیاری اور ملیر ندی کے نشیبی علاقے اب بھی زیرِ آب ہیں۔ ملیر ندی سے دونوں کاز وے بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد کو جام صادق پل استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کے مطابق، شاہراہ بھٹو کا صرف 20 میٹر حصہ سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے جو زیرِ تعمیر سڑک کا حصہ تھا۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت شاہراہ بھٹو کے دو فیز ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں جبکہ تیسرا فیز زیرِ تعمیر ہے، جہاں سڑک متاثر ہوئی وہاں سے گیس لائن گزر رہی تھی جس سے پانی داخل ہوا اور بیس میٹر کا حصہ بہہ گیا، جسے جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

صوبہ سندھ میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے (پی ڈی ایم اے) کے مطابق، حالیہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے کچے کے قریبا15 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں تاہم ابھی تک کسی نے بھی حکومت کے قائم کردہ ریلیف کیمپوں میں پناہ نہیں لی۔

وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سکھر بیراج کی گنجائش 15 لاکھ کیوسک تھی، مگر دس دروازے بند کرنے کے بعد اب اس کی گنجائش 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک رہ گئی ہے۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ سکھر بیراج کی گنجائش بڑھائی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تھڈو نالا اوور ٹاپ ہونے سے پانی سپر ہائی وے پر آ گیا جو وہاں سے سعدی ٹاؤن تک پہنچا۔ سنہ 2020 کے بعد ہم نے نالا تعمیر کیا ہے مگر ایم نائن پر پانی کی کراسنگ کا مسئلہ برقرار ہے۔ وہاں کٹنگ کی اجازت نہیں، اس لیے متعلقہ اداروں کو کہا ہے کہ پانی کو کراسنگ دی جائے کیونکہ یہی اس کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں