پاکستان سمیت 10 ممالک نے غزہ کے لیے امدادلے جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کو اسرائیل کی جانب سے روکنے کی مذمت کی ہے۔
پاکستان، ترکیہ، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، اردن، لیبیا، مالدیپ اور سپین کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان پاکستان کے دفتر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ ’’گلوبل صمود فلوٹیلا کے خلاف اسرائیل کی تازہ کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جو ایک پُرامن شہری اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام تھا، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی سنگین انسانی صورتحال کی جانب عالمی توجہ مبذول کروانا تھا۔‘‘
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ وزراء نے بین الاقوامی پانیوں میں امدادی جہازوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور شہری جہازوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کی مذمت کی۔
بیان کے مطابق امدادی کشتیوں پر حملے اور کارکنوں کی گرفتاری بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے فلوٹیلا میں شامل شہریوں کی سلامتی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے گرفتار تمام کارکنوں کی فوری رہائی اور ان کے حقوق و وقار کے احترام کا مطالبہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پُرامن انسانی ہمدردی کی کوششوں پر بار بار حملے بین الاقوامی قانون اور بحری آزادی کو مسلسل نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں۔ مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، شہریوں اور انسانی مشنز کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرے۔
ادھر پاکستان کے معروف سماجی کارکن فیصل ایدھی کے صاحبزادے اور عبدالستار ایدھی کے پوتے سعد ایدھی کو بھی اسرائیلی فورسز نے دیگر کارکنوں کے ساتھ حراست میں لیا ہے۔ اسرائیلی بحریہ نے پیر کے روز مشرقی بحیرہ روم میں امدادی کشتیوں کو روک لیا تھا۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ غزہ پر عائد ’’قانونی بحری ناکہ بندی‘‘ کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امدادی مشن سے وابستہ کشتیوں نے جمعرات کو جنوبی ترکیہ سے تیسری مرتبہ غزہ کے لیے سفر شروع کیا تھا، اس سے قبل بھی اسرائیل بین الاقوامی پانیوں میں امدادی کوششوں کو روک چکا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی غزہ کے لیے سمندری راستے سے امداد پہنچانے کی حالیہ کوشش کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے دفتر کے مطابق انہوں نے کارروائی کرنے والی فورس کے کمانڈر سے کہا کہ ’’آپ غزہ میں حماس کے دہشت گردوں پر عائد ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے غیر معمولی کام کر رہے ہیں۔‘‘
غزہ 2007 سے اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار ہے اور جاری جنگ کے دوران وہاں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اسرائیل کئی مواقع پر امدادی سامان کی ترسیل بھی روک چکا ہے۔
گزشتہ ماہ بھی یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایک امدادی فلوٹیلا کو روکا گیا تھا، جس کے بعد بیشتر کارکنوں کو یورپ واپس بھیج دیا گیا تھا۔ پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی اس کارروائی میں گرفتار ہونے والوں میں شامل تھے۔