ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ بہت کم یا بہت زیادہ نیند لینے والے افراد میں بڑھاپا تیزی سے اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ متوازن نیند جسم اور دماغ کو زیادہ دیر تک جوان اور متحرک رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند انسانی صحت کیلئے سب سے بہتر سمجھی جاتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس دورانیے سے کم یا زیادہ سونے والے افراد میں جسمانی کمزوری، ذہنی تھکن، یادداشت کی خرابی اور مختلف بیماریوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ طبی ماہرین نے ہزاروں افراد کی نیند، صحت اور روزمرہ عادات کا جائزہ لیا، جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ کم نیند لینے والے افراد میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور دل کی بیماریوں کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نیند صرف آرام کا نام نہیں بلکہ یہ جسم کی مرمت، دماغی کارکردگی اور قوتِ مدافعت بہتر بنانے کا اہم عمل ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت زیادہ نیند لینے والے افراد میں جسمانی سستی، موٹاپے اور کمزور دماغی کارکردگی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین نے اچھی نیند کیلئے چند آسان عادات اپنانے کا مشورہ دیا ہے، جن میں روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا، سونے سے پہلے موبائل فون اور دیگر اسکرینز کا کم استعمال، کیفین والے مشروبات سے پرہیز اور ہلکی ورزش شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن نیند نہ صرف جسمانی صحت بہتر بناتی ہے بلکہ ذہنی سکون، بہتر یادداشت اور طویل عمر میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔