بھارتی ریاست منی پور میں نسلی فسادات شدت اختیار کر گئے، 4 عیسائی مذہبی رہنما قتل

بھارتی ریاست منی پور میں نسلی فسادات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں مظاہرین کی جانب سے مسلسل ہڑتالیں، ناکہ بندیاں اور شاہراہوں کی بندش جاری ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق منی پور کے ضلع کانگپوکپی میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 4 عیسائی مذہبی رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا۔ 13 مئی کو ہونے والے تازہ نسلی تصادم میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جبکہ مقامی افراد نے قتل عام کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز کو علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ منی پور میں جدید ہتھیاروں اور اسلحے کے کھلے عام استعمال نے صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے، اور بعض تجزیہ کار اسے خانہ جنگی جیسی کیفیت قرار دے رہے ہیں۔ عوامی مزاحمت اور عدم اعتماد کے باعث بھارتی سکیورٹی فورسز بھی شدید دباؤ اور ذہنی تناؤ کا شکار بتائی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ منی پور میں جاری نسلی فسادات کے نتیجے میں اب تک 60 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو مختلف امدادی کیمپوں میں خوف اور غیر یقینی صورتحال کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں